برطانیہ کے سبھی سپراسٹور سیاہ فاموں کے حق میں متحد ہو گئے

37


برطانیہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 نومبر2020ء) برطانوی سپر سٹور سینزبری نے اس سال کرسمس کے اپنے اشتہار میں ایک بلیک فیملی کو خوشیاں مناتے دکھایا تو گورے نسل پرست اس کے خلاف ہوگئے۔ سوشل میڈیا پر سینزبری کے خلاف ایک مہم شروع ہوگئی۔ جس پر آج ٹی وی چینلز پر سینزبری کے تمام حریف سپر سٹورز نے اس سے اظہار یکجہتی کے لیے غیر معمولی طور پر اس کے اشتہار کے ساتھ اپنے اشتہارات اس ہیش ٹیگ #StandAgainstRacismکے ساتھ چلائے۔ یہ ہے سماجی ضمیر!اور یہ ہوتا ہے کامیاب معاشروں کا حسن۔ مغرب میں دو بیماریوں کا حل آج تک نہیں نکالا جا سکا ایک اسلاموفوبیااور دوسرا نسل پرستی۔مسلمانوں کو دہشت گرد کہنے میں گورے دیر نہیں لگاتے اور دوسری طرف سیاہ فاموں کی سانسیں روکنے میں بھی یہ کوئی موقع ضائع نہیں کرتے۔

()

پچھلے کچھ عرصے سے گوروں کے مختلف ممالک میں سیاہ فاموں کی جس برح بہیمانہ انداز میں جانیں لی جاتی رہی ہیں وہ ہم سب کے سامنے ہے۔

مگر آج یو کے سے تعلق رکھنے والے کچھ سپراسٹورز اور دیگر کاروباری احباب نے تاریخ رقم کر دی۔سیاہ فاموں کے ساتھ نہ صرف محبت کا دعویٰ کر ڈالا بلکہ ایک سپر اسٹور جس نے اپنے اشتہار میں سیاہ فاموں کو خوشیاں مناتے دکھایا تھا اس کے خلاف تحریک چلانے والوں کو بھی دو ٹوک جواب دے دیا کہ نہیں اب سیاہ فاموں کے خلاف نسل پرستی کی جنگ بند کرنے کاوقت آن پہنچا ہے لہٰذا انہوں نے بھی سینز بری اسٹور کے ساتھ یکجہتی دکھاتے ہوئے اپنے اشتہاروں پر بھی No racismکا ہیش ٹیگ چلا دیا۔چونکہ مغرب میں کرسمس کا تہوار منانے کی مہم عروج پر ہے تو اس حوالے سے سبھی بڑے بڑے اسٹورز اشتہار چلا رہے ہیں۔اسی مہم میں ایک سیاہ فام فیملی کو خوشیاں مناتے ہوئے ایک اسٹور کی طرف سے دکھایا گیا جس پر مقامی لوگوں نے اس اسٹور کا بائیکاٹ کرنے کے لیے آن لائن مہم چلائی اور اس مہم سے ساتھ اسٹور والے کو بچانے کے لیے اور سیاہ فاموں سے نفرت میں کمی لانے کے لیے سارے اسٹورز مالکان اکٹھے ہو گئے اور اپنے عوام کو ٹکا سا جواب دے دیا کہ ہمارے معاشرے میں نسل پرستی کی جنگ اب ہمیشہ کے لیے بند ہونی چاہیے۔



Source link

Credits Urdu Points