ملتان میں پی ڈی ایم رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا

28


ملتان (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 28 نومبر2020ء) ملتان میں پی ڈی ایم رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا، مقدمے میں 70 نامزد اور 300 سے زائد نامعلوم کارکنان کو شامل کیا گیا،مقدمہ تھانہ لوہاری گیٹ میں ایس ایچ او کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پی ڈ ی ایم نے اجازت نہ ملنے کے باوجود 30 نومبر کو ملتان میں جلسے کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ ملتان جلسے کی میزبانی پیپلزپارٹی کررہی ہے، ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پی ڈی ایم رہنماؤں کو کورونا پابندیوں کے باعث جلسے کی اجازت نہیں دی گئی، لیکن پی ڈی ایم رہنماؤں کو جب اجازت نہیں ملی تو قاسم باغ اسٹیڈیم کے تالے اور گیٹ توڑ کر پی پی کارکن اندر داخل ہوگئے۔ جس پرتھانہ لوہاری گیٹ میں ریلی نکالنے اور تالے توڑنے پر پی ڈی ایم رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج کرلیے گئے ہیں۔

()

مقدمے میں 70 نامزد اور 300 سے زائد نامعلوم کارکنان کو شامل کیا گیا ہے۔ مقدمہ تھانہ لوہاری گیٹ میں ایس ایچ او کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ واضح رہے حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے پیش نظر جلسوں کی اجازت نہ دینے کے باوجود اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے کارکنان نے ملتان جلسے سے 2 روز قبل ہی رکاوٹیں توڑ کر جلسہ گاہ قلعہ کہنہ قاسم باغ اسٹیڈیم پہنچ کر استقبالی کیمپ لگا لیا ہے۔ اکستان ڈیموکریٹ موومنٹ نے 30 نومبر کو ملتان کے قلعہ کہنہ قاسم باغ میں جلسے کا اعلان کیا تھا تاہم انتظامیہ نے اس کی اجازت نہ دیتے ہوئے رکاوٹیں کھڑی کردی تھیں۔ ہفتہ کو پیپلزپارٹی کے رہنما علی موسیٰ گیلانی کی قیادت میں ریلی گھنٹہ گھر چوک پر پہنچی جہاں مسلم لیگ (ن) کے کارکنان کی ایک بڑی تعداد اس ریلی شامل ہوئی۔ مسلم لیگ (ن) کی ریلی کی قیادت عبدالرحمان کانجو اور طارق رشید کررہے تھے جس کے بعد شرکاء جلسہ گاہ کی طرف پہنچے۔ جہاں پولیس کی جانب سے انہیں روکنے کی کوشش کی گئی جس پر دونوں فریقین کے درمیان تلخ کلامی ہوئی تاہم ریلی کے شرکا رکاوٹیں ہٹاتے ہوئے جلسہ گاہ قلعہ کہنہ قاسم باغ میں تالے توڑ کر داخل ہوئے اور وہاں استقبالیہ کیمپ لگا لیا۔ 



Source link

Credits Urdu Points