سابق وزیراعظم نواز شریف امریکہ کو خوش کرنے کے لیے کس حد تک جا پہنچے ہیں؟

30


اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 28 نومبر 2020ء) : نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سینئیر صحافی و تجزیہ کار ارشاد احمد عارف نے کہا کہ ایک بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں جو صحافی ، کالمسٹ، اینکر یا تجزیہ کار ہوں ، اُن کو اس غلط فہمی سے نکلنے کی ضرورت ہے کہ یہ اپوزیشن ہو یا ماضی کی اپوزیشن ہو اُس کا نکتہ نظر اس ملک میں جمہوریت ہے کیونکہ یہ اقتدار کی جنگ ہے اور موجودہ دو جماعتیں جو چھ چھ ، پانچ پانچ بار اقتدار میں آ چکی ہیں وہ ثابت کر چکی ہیں کہ انہوں نے اپنے ادوار میں نہ ہی کوئی انتخابی اصلاحات کیں اور نہ ہی جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے کوئی کام کیا۔ نہ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کو پیچھے دھکیلنے کے لیے کوئی کام کیا۔ اقتدار میں رہنے کے لیے انہوں نے صرف اور صرف سازشیں اور لین دین کیے۔

()

ایک تو یہ غلط فہمی دور ہو جانی چاہئیے۔ دوسرا یہ کہ اپوزیشن کی توقعات ہیں؟ ہوا یہ کہ ٹرمپ کے دور کے آخری حصے میں اس خطے میں اسرائیل اہمیت اختیار کر گیا۔ ٹرمپ کی خواہش تھی کہ مسلم ممالک ، عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کر لیں۔

اور جن علاقوں پر وہ قبضہ کر چکا ہے وہ ویسے کے ویسے رہیں۔ اس ضمن میں سب سے زیادہ دباؤ سعودی عرب پر تھا اور سعودی عرب کے دو قریبی دوست ممالک یو اے ای اور بحرین ہیں، جب انہوں نے اسرائیل کو تسلیم کیا تو صاف نظر آ رہا تھا کہ یہ سعودی عرب کی مرضی کے بغیر نہیں ہو رہا ، سعودی عرب کا اگلا دباؤ پاکستان پر آنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے اپوزیشن بالخصوص نواز شریف کی انڈراسٹینڈنگ یہ نظر آتی ہے کہ سعودی عرب کے دباؤ کو برداشت کرنا ہماری اسٹیبلشمنٹ کے لیے آسان نہیں ہے۔ حکومت چاہے یہ دباؤ برداشت کر لے اور عمران خان چاہے ڈٹ جائیں لیکن اسٹیبلشمنٹ تیار نہیں ہے۔ جب ہم بھی دباؤ ڈالیں گے اور کہیں گے دوست ممالک کا ساتھ دینا چاہئیے ، تو اس میں ہمارے لیے بھی گنجائش پیدا ہو گی ، کیونکہ پہلے بھی ہم امریکہ کو یقین دہانیاں کرواتے تھے ، اور اُن کا کچھ نہ کچھ مفاد پورا کرتے رہے ، اب بھی ہمیں اگر موقع دیا جائے تو ہم یہ کام کر سکتے ہیں۔ ارشاد احمد عارف نے مزید کیا کہا آپ بھی دیکھیں:



Source link

Credits Urdu Points