ڈنمارک کی وزیر اعظم کسانوں سے معافی مانگتے وقت رو پڑیں

28



Live Updates

حکومت کی جانب سے نیولوں کو مارنے کے احکامات درست نہیں تھے،میٹے فیڈرکسن کا اعتراف

جمعہ نومبر
21:08

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 27 نومبر2020ء) یورپی ملک ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فیڈرکسن کرونا کیکے باعث لاکھوں نیولوں کو مارنے کے حکومتی حکم پر کسانوں اور تاجروں سے معافی مانگتے ہوئے رو پڑیں۔ڈنمارک کی حکومت نے رواں ماہ کے آغازمیں ہی نیولوں کی افزائش کرنے والے کسانوں اور تاجروں کو انہیں جلد سے جلد مارنے کا حکم دیا تھا۔حکومت نے نیولوں کو مارنے کا حکم اس وقت دیا تھا جب بعض تحقیقات میں ثابت ہوا تھا کہ وہ ڈنمارک کے نیولوں میں کورونا وائرس منتقل ہوچکا ہے اور وہ نیولے وائرس کو تیزی سے انسانوں میں منتقل کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ایسی تحقیقات کے بعد ڈنمارک کی حکومت نے نیولوں کی افزائش کرنیوالے کسانوں اور تاجروں کو سختی سے تاکید کی تھی کہ انہیں جلد سے جلد ہلاک کرکے تلف کیا جائے۔

()

حکومتی احکامات کے بعد وہاں کے کسانوں اور تاجروں نے صحت مند نیولوں کو بھی مار دیا تھا، تاہم اب وہاں کی وزیر اعظم نے حکومت کے غلط احکامات پر معافی مانگ لی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم میٹے فیڈرکسن نے نیولوں کی افزائش کرنے والے ایک فارم ہاؤس کے دورے کے دوران معافی مانگتے ہوئے رو پڑیں۔وزیر اعظم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ حکومت کی جانب سے نیولوں کو مارنے کے احکامات درست نہیں تھے۔وہ گفتگو کے دوران متعدد بار خاموش ہوگئیں اور اپنے آنسو پونچھے۔میٹے فیڈرکسن نے کہا کہ ڈنمارک کے کسانوں اور تاجروں کی کئی نسلیں یہ کام کرتے گزریں اور ان کے پاس اچھا تجربہ بھی ہے، تاہم حکومت نے انہیں زندگی کی جمع پونجی یعنی تیار نیولوں کو مارنے کا حکم دیا۔انہوں نے کہا کہ یہ احکامات نیولوں سے کورونا کے پھیلنے کی باتیں سامنے آنے کے بعد دیئے گئے تھے۔



کرونا وائرس کی دوسری لہر سے متعلق تازہ ترین معلومات

متعلقہ عنوان :



Source link

Credits Urdu Points