’ملتان ، حیدرآباد اور لودھراں انسانی اسمگلنگ کے گڑھ ہیں‘

27


اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 نومبر2020ء) سپریم کورٹ آف پاکستان نے ریمارکس دیے ہیں کہ رپورٹس کے مطابق ملتان ، حیدرآباد اور لودھراں انسانی اسمگلنگ کے گڑھ ہیں۔ میڈیا ذرائع کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے ڈیرہ غازی خان سے لاپتہ ہونے والی خاتون عاصمہ مجید کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت کی ، اس دوران جسٹس عمر عطاء بندیال نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ مختلف رپورٹس میں ملتان ، حیدرآباد اور لودھراں انسانی اسمگلنگ کے گڑھ قرار دیا گیا ہے ، انسانی حقوق کے مقدمات عدالت کیلئے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں ، گمشدگی بچوں کی ہو یا خواتین کی ، عدالت اس میں کسی بھی قسم کی تفریق نہیں کرتی۔ ذرائع کے مطابق اس موقع پر عدالت نے گمشدہ خاتون کے اہلخانہ کے وکیل کی سرزنش کی اور جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ جو باتیں آپ کر رہے ہیں عدالت پولیس کو کہہ چکی ہے ، بعد ازاں عدالت نے گمشدہ خاتون کی تلاش کیلئے چاروں صوبوں کو تعاون کرنے کا حکم دیدیا جب کہ ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب ظفر اقبال بھی دوران سماعت عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے عدالت سے خاتون کی بازیابی کیلئے 2 ماہ کی مہلت مانگ لی۔

()

دوسری طرف کمسن بچیوں کو کرائے پر لے کر جسم فروشی کروانے والا گروہ گرفتار کرلیا گیا ، اُردو پوائنٹ کی ٹیم نے ملزمان سے بات کی تو اہم انکشافات سامنے آگئے ، مرکزی ملزمہ نجمہ بی بی نے بتایا کہ پولیس کی جانب سے بازیاب کی گئی نوجوان لڑکی مناہل کی ماں نے خود اپنی بیٹی کو دھندہ کرنے کے لیے بھیجا تھا ، ملزمہ کا کہنا تھا کہ یہ سب لڑکیاں اپنی مرضی سے آتی تھیں، اور ان کی باقاعدہ کمیشن دی جاتی تھی ، ہم نے کسی کو اغواء نہیں کیا تھا ۔
کمسن بچی مناہل لطیف نے انکشاف کیا کہ اس کی والدہ کی دوست نجمہ نے اس کو اغواء کیا اور وقار کے ساتھ ملکر اسے سندھ لے گئے جہاں تقریباََ تین ماہ تک اس سے جسم فروشی کروائی گئی ، دھندہ نہ کرنے پر نجمہ نامی خاتون اور وقار اس سے مار پیٹ کرتے تھے، اور کئی مرتبہ بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا ، نجمہ کی کوئی بیٹی نہیں تھی تو میری والدہ نے مجھے اس کے پاس بھیجا تھا جہاں اس نے مجھے اغواء کیا ۔



Source link

Credits Urdu Points