الیکٹرول کالج میں بائیڈن کی کامیابی کی صورت میں ٹرمپ کا وائٹ ہاﺅس چھوڑنے کا اعلان

23


واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔27 نومبر ۔2020ء) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر الیکٹرول کالج کی ووٹنگ میں جو بائیڈن باضابطہ طور پر ملک کے 46 ویں صدر قرار پائے تو وہ وائٹ ہاﺅس چھوڑ دیں گے صدر ٹرمپ 3 نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے دعوے کرتے رہے ہیں اور وہ اپنی شکست تسلیم کرنے سے بھی انکاری ہیں. واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر الیکٹرول کالج نے انتخابات میں کامیاب امیدوار کی تصدیق کر دی تو وہ وائٹ ہاﺅس سے چلے جائیں گے یاد رہے کہ امریکہ کے مروجہ انتخابی نظام کے تحت صدر کا انتخاب براہ راست عوامی ووٹوں سے نہیں بلکہ الیکٹرول کالج کے ذریعے ہوتا ہے.

()

عوام اپنے ووٹوں کے ذریعے ”الیکٹرز“ کا انتخاب کرتے ہیں جو14 دسمبر کو اپنی اپنی ریاستوں میں جمع ہوکر انتخابات میں جیتنے والے امیدوار کی توثیق کرتے ہیں ”الیکٹرز“کے نتائج 6جنوری کو کانگرس کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیئے جاتے ہیں جو ان کی توثیق کرتی ہے اور 20 جنوری کو کامیاب امیدوار صدارت کا حلف اٹھاتا ہے.

3 نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق بائیڈن نے 306 الیکٹرول ووٹ حاصل کیے ہیں جب کہ صدر ٹرمپ 232 ووٹ حاصل کر سکے ہیں انتخابات میں کامیابی کے لیے کسی بھی امیدوار کو 538 میں سے 270 الیکٹرول ووٹ درکار ہوتے ہیں اور یہ مطلوبہ تعداد جو بائیڈن حاصل کر چکے ہیں اور ان کے مجموعی ووٹوں کی تعداد صدر ٹرمپ کے مقابلے میں 60 لاکھ زیادہ ہے. صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران ایک مرتبہ پھر کہا کہ موجودہ صورت حال میں ان کے لیے شکست تسلیم کرنا آسان نہیں ہو گا جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر الیکٹرول کالج بائیڈن کے حق میں ووٹ دیتا ہے تو کیا وہ وائٹ ہاﺅس چھوڑ دیں گے؟ اس پر انہوں نے کہا کہ یقینی طور پر میں ایسا ہی کروں گا لیکن میرے خیال میں 20 جنوری تک بہت سی نئی چیزیں رونما ہو چکی ہوں گی. صدر ٹرمپ نے جو بائیڈن کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کرنے سے متعلق سوال کا جواب دینے سے بھی گریز کیا صدر ٹرمپ نے اپنے الزامات کودہراتے ہوئے کہا کہ صدارتی انتخاب دھوکہ دہی پر مبنی تھا تاہم انہوں نے مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں اور اپنے اس دعوے سے متعلق کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے ایک جانب انتخابات میں صدر ٹرمپ مسلسل اپنی ناکامی تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہیں وہیں ان پر ری پبلکن جماعت میں سے انتقالِ اقتدار کے لیے دباﺅ بڑھتا جا رہا ہے گزشتہ ہفتے ہی صدر ٹرمپ نے انتقال اقتدار کا عمل شروع کرنے پر رضا مندی ظاہر کی تھی.



Source link

Credits Urdu Points