احتساب عدالت میں نوازشریف اور شہبازشریف کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

28


لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 نومبر2020ء) قائد ن لیگ سابق وزیراعظم میاں نوازشریف اور اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں والد بیگم شمیم اختر کی تدفین کے انتظامات پر بات چیت ہوئی، شہبازشریف کو میت بھجوانے کے اجازت نامے اور سرکاری پیپر ورک مکمل ہونے سے متعلق آگاہ کیا گیا، شہبازشریف پرول پر جمعہ کو رہا ہوجائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بھائی شہبازشریف کے درمیان ٹیلیفون پر رابطہ ہوا ہے، دونوں بھائیوں میں والدہ کی تدفین کے بارے انتظامات بارے مشاورت کی۔ نوازشریف نے میت بھجوانے کے پیپر ورک سے آگاہ کیا، دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ والدہ کا سایہ اٹھ جانے پر رنج وغم اور افسوس کا اظہار کیا۔

()

میاں نواز شریف نے شہباز شریف کو بتایا کہ میں بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ کورونا مثبت ہونے پر ہمدردی اور نیک تمناوں کا اظہار کرتا ہوں۔

دونوں بھائیوں کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ شہبازشریف کی احتساب عدالت لاہور میں پیشی کے موقع پرہوا۔ شہبازشریف نے بتایا کہ وہ جمعہ کو پیرول پر رہا ہوجائیں گے، شہباز شریف نے اپنے بیٹے سلمان شہباز سے بھی گفتگو کی۔ دوسری جانب پنجاب حکومت نے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کی 5 روز کیلئے پیرول پر رہائی کی منظور ی دے دی ، محکمہ داخلہ نے تھروسرکولیشن کابینہ سے منظوری لی، مسلم لیگ ن نے پیرول پر دوہفتے کی رہائی کیلئے درخواست دی تھی ، ن لیگ کی قیادت نے پارٹی صدر میاں شہبازشریف اور اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کی پیرول پردوہفتے رہائی کیلئے درخواست دی تھی جس پر دونوں کی پیرول پر رہائی بیگم شمیم اختر کے انتقال پر دی جارہی ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے اس حوالے سے واضح کیا تھا کہ وہ صرف 12گھنٹے کیلئے رہائی دے سکتا ہے، اس سے زیادہ پیرول پر رہائی دینے کااختیار وزیراعلیٰ پنجاب کے پاس ہے جس پر محکمہ داخلہ نے وزیراعلیٰ پنجاب کو ایک سرکولیشن بھیجا، وزیراعلیٰ نے سمری پنجاب کابینہ کو بھجوائی، تاہم پنجاب کابینہ نے وزیراعلیٰ کی سمری پر فیصلہ کرتے ہوئے شہبازشریف اور حمزہ شہباز کی 5 روز کیلئے پیرول پر رہائی کی منظور ی دے دی ، پیرول پر رہائی کا عمل میت پاکستان پہنچنے پر شروع ہوجائے گا۔



Source link

Credits Urdu Points