سنگین غداری کیس پر ردعمل کا معاملہ ، وفاقی وزراء کو خود عدالت میں پیش ہونے کا حکم

32


جنہوں نے توہین عدالت کی ہے وہ آئندہ سماعت پر خود پیش ہوں ، پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس روح الامین کے ریمارکس

ساجد علی
جمعرات نومبر
16:12

سنگین غداری کیس پر ردعمل کا معاملہ ، وفاقی وزراء کو خود عدالت میں پیش ..

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 نومبر2020ء) پشاور ہائیکورٹ نے سنگین غداری کیس پر ردعمل کے معاملے پر وفاقی وزراء کو خود عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق پشاورہائی کورٹ میں سنگین غداری کیس کے فیصلے پر وفاقی وزرا کے رد عمل کے کیس کی سماعت ہوئی ، جہاں دوران سماعت ڈپٹی اٹارنی جنرل عامر جاوید نے موقف اختیار کیا کہ فریقین کی طرف سے ہم اس کیس پر بحث کریں گے ، تاہم اس کے جواب میں جسٹس روح الامین نے کہا کہ جنہوں نے توہین عدالت کی ہے وہ آئندہ سماعت پر خود پیش ہوں ، جس کے بعد پشاور ہائی کورٹ نے آئندہ سماعت میں وفاقی وزرا کو خود پیش ہونے کا حکم جاری کردیا۔ واضح رہے کہ پرویز مشرف کیس کےفیصلے پر وفاقی وزیر فروغ نسیم ، وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری اور معاون خسوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس کی تھی۔

()

اس سے پہلے خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا تھا ، پرویز مشرف کے وکیل تفصیلی فیصلہ کی کاپی لے کر عدالت سے روانہ ہو گئے تھے ، وزارت داخلہ کے نمائندوں کو بھی فیصلے کی کاپی فراہم کی گئی ، تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ دو ججز پرویز مشرف کو سزا دینے کے حق میں ہیں جب کہ سندھ ہائیکورٹ کے جج نے اس سے اختلاف کیا ، جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس شاہد کریم نے سزائے موت کا حکم دیا جب کہ جسٹس نذر اکبر نے فیصلے سے اختلاف کیا اور جسٹس نذر اکبر نے سنگین غداری کیس میں پرویز مشرف کو بری کر دیا، جسٹس نذا اکبر نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا کہ استغاثہ اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا جب کہ تفصیلی فیصلے میں جسٹس وقار احمد سیٹھ نے کہا کہ پرویز مشرف پھانسی سے قبل انتقال کر جاتے ہیں تو ان کی لاش کو ڈی چوک پر لایا جائے اور تین دن کے لٹکایا جائے۔

بتایا گیا کہ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کا فیصلہ 169 صفحات پر مشتمل ہے جس میں پرویز مشرف کو غداری کا مرتکب قرار دے دیا گیا ، تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت پرویز مشرف کو پھانسی کی سزا سناتی ہے ،جمع کروائے گئے دستاویزات واضح ہیں کہ ملزم نے جرم کیا ،ملزم پر تمام الزامات کسی شک و شبہ کے بغیر ثابت ہوتے ہیں ، پرویز مشرف کو دفاع کا موقع دیا گیا ،پرویز مشرف کو 19جون 2016 کو مفرور قرار دے دیا گیا تھا ،ملزم کو ہر الزام پر علیحدہ علیحدہ سزا دی جاتی ہے۔

متعلقہ عنوان :



Source link

Credits Urdu Points