چینی صدر کی جوبائیڈن کو مبارکباد‘ٹرمپ کی یکطرفہ سرد جنگ کا خاتمہ کی جانب بڑا قدم

26


واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔26 نومبر ۔2020ء) نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن کو چین کے صدر شی جن پنگ کے مبارکباد کے باضابط پیغام کو امریکی ذرائع ابلاغ میں نمایاں طور پر دنیا کے طاقتور راہنماءکی جانب سے امریکا کے ساتھ تعلقات میں بہتری اور ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ جاری سرد جنگ کے خاتمے کی جانب ایک بڑا قدام قراردیا جارہا ہے.

()

صدر شی جن پنگ کی جانب سے ڈیموکریٹ امیدوار جوبائیڈن کے امریکا کے 46ویں صدر منتخب ہونے پر مبارکباد کا ایک خط ارسال کیا گیا تھا جس میں چینی صدر نے جو بائیڈن کو امریکا کا نیا صدر اور کامیلا ہیرس کو نائب صدرمنتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے صدر شی جن پنگ نے اپنے پیغام میں ڈیموکریٹ پارٹی کے جو بائیڈن کو امریکی صدارتی انتخاب میں فتح کی مبارک باد دی اور امریکا اور چین کے باہمی تعلقات صحت مند اور مستحکم ہونے کی امید ظاہر کی چین کے نائب صدر وانگ کی شان نے بھی امریکی نو منتخب نائب صدر کاملہ ہیرس کو جیت کی مبارکباد دی تھی. قبل ازیں چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ تھا ہم امریکی عوام کی خواہشات کا احترام کرتے ہیں اور بائیڈن اور کملا ہیرس کو مبارکباد پیش کرتے ہیں چین اور امریکہ کے درمیان تعلقات دونوں ممالک کے ساتھ ساتھ دیگر دنیا کے لیے بھی بہت اہم ہیں حالیہ عرصے میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت، جاسوسی اور عالمی وبا جیسے معاملات پر تناﺅ میں اضافہ ہوا ہے. چین کی جانب سے مبارکباد دینے میں تاخیر پر عالمی ذرائع ابلاغ کی جانب سے افواہوں کے جواب میں چینی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ چین سرکاری طور پر حتمی نتائج کا انتظار کررہا ہے کیونکہ 2016کے انتخابات میں عالمی راہنماﺅں کی جانب سے ہیلری کلنٹن کو مبارکباد پیش کردی گئی تھی مگر بعد میں الیکٹرول ووٹوں کی گنتی میں ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے 45ویں صدر منتخب ہوگئے تھے عالمی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ چین اور روس سمیت دنیا کے کئی راہنماﺅں کی جانب سے فوری طور پر جوبائیڈن کو مبارکباد پیش نہ کرنے کے پیچھے یہ محرک تھا. واضح رہے کہ چین اس خواہش کا اظہار کرچکا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے چین کے خلاف یکطرفہ محاذآرائی کا خاتمہ چاہتا ہے اور دنیا کی دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان متوازان اور برابری کی سطح پر تعلقات کا خواہش مند ہے بیجنگ کی جانب سے نیک خواہشات کے اظہار اور ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یکطرفہ ٹریڈوار کے خاتمے کی خواہش کو ایک مدبرانہ اعلان قراردیا جارہا ہے. واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ٹیرف میں اضافے اور چین کے ساتھ یکطرفہ طور پر ٹریڈ وار شروع کرنے کی امریکا کو بھاری قیمت چکانا پڑی تھی اور امریکا کے سستی اشیاءفرخت کرنے والے متعددسٹوروں کی چینزبند ہوگئیں تھیں جس سے عام امریکی شہری بہت زیادہ متاثرہ ہوئے تھے امریکا میں ایک ڈالر میں اشیاءضروریہ فروخت کرنے والے سٹوروں نے ورکنگ کلاس امریکیوں کی سفید پوشی کا بھرم رکھا ہوا تھا اسی طرح درمیانے درجے کے سٹورزاور ملبوسات کی دوکانیں بھی چین سے سستے داموں مال بنوا یا خرید رہی تھیں مگر ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ٹیرف میں اضافے اور غیرضروری طور پر چین کے ساتھ تجارتی جنگ شروع کرنے سے عام امریکی شہری اور چھوٹے کاروباری بہت زیادہ متاثرہ ہوئے تھے. 



Source link

Credits Urdu Points