اسرائیلی فورسز نے فلسطینی ٹیکسی ڈرائیور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا

29


یروشلم (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 نومبر2020ء) ظلم آخر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے،،آخر کب تک اسرائیل فلسطین کے نہتے مسلمانوں کے ساتھ خون کی ہولی کھیلے گا ایک نا ایک دن تو حساب چکانا پڑے گا۔ظلم کی داستانیں آئے روز رقم ہوتی ہیں۔اسرائیل فلسطین کے چاروں طرف تو پھیلاہوا ہی ہے تاہم اب وہ فلسطین کے نہایت کم رہ جانے والے رقبے کو بھی ہتھیا کر اس کا نام و نشان ہمیشہ کے لیے مٹانا چاہتا ہے مگر یہ اس کے بس کی بات نہیں کیونکہ فلسطینی باشندے جان تو دے سکتے ہیں مگر اپنا حق ڈیمانڈ کرنے سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔اسرائیل کبھی کس شہر تو کبھی کس علاقے پر قبضہ کرتا جا رہا ہے اور وہاں کے معصوم لوگوں کی ایک ایک کر کے جان بھی لیتا جا رہاہے۔گزشتہ روز بھی اسرائیلی فورس نے ایک نوجوان ٹیکسی ڈرائیور کو گولی مار دی ہے۔

()

یروشلم پر ناجائز قبضہ کرنے والے اسرائیل نے اب یروشلم کے باہر چیک پوسٹ بنا لی ہے اور اس چیک پوسٹ کو عبور کرنے کی کوشش میں ایک فلسطینی شخص کو گولی مار کر جاں بحق کر دیا گیا ہے۔

مشرقی یروشلم سے تعلق رکھنے والا ایک 37سالہ شخص جس کا نام نور شاکر شوقیر بتایا جا رہے کو اسرائیلی بارڈر فورس نے گولی ماری کہ وہ بغیر چیکنگ کرائے یروشلم کا بارڈر عبور کرنے کی کوشش کررہا تھا۔اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ سکیورٹی پوسٹ پر سے جب چیکنگ کے مراحل سے گزارا جا رہا تھا تو اس ٹیکسی ڈرائیور نے کاغظ چیک کرائے بغیر وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی جس وجہ سے اسے گولی ماری گئی۔جبکہ عینی شاہدین اور دیگر لوگوں کا کہنا ہے کہ اس ٹیکسی ڈرائیور کو کاغظ چیک کرانے کا کہا ہی نہیں گیا تھااور ویسے ہی اسے اسرائیلی فورس کے افسران نے گولی مار دی تھی۔اس بہیمانہ قتل پر سوشل میڈیا سمیت ہر فورم پر غم و غصے کی لہر دیکھنے کو مل رہی ہے کیونکہ فلسطین کے معصوم اور بے گناہ لوگوں کو قتل کرنا اسرائیلی فورسز کا مشغلہ بن چکا ہے۔



Source link

Credits Urdu Points