یمن کی سرحد کے نزدیک آئل ٹینکر میں پراسرار دھماکا

26


یمن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 نومبر2020ء) تیل کے جہازوں کو نشانہ بنانا سمندری حدود میں چنداں مشکل نہیں اور اس قسم کے حملوں کا مقصد حریف ملک کی معیشت کو نقصان پہنچانے کے علاوہ ان کی جنگی استطاعت کو بھی کمزور کرنا ہوتا ہے کہ یہ تیل اکثر اوقات دوسرے جنگی بیڑوں کے لیے بھی لے جایا جا رہاہوتا ہے۔آئے روز تیل کے بیڑوں پر حملوں کی خبریں سنائی دیتی رہتی ہیں۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب کے ساحلی علاقے شقیق پر تیل ٹینکر میں زوردار دھماکا ہوا ہے۔ یونان کے زیر انتظام ایم ٹی ایگری نامی جہاز پر مالٹا کا پرچم لہرا رہا ہے۔جہاز برداری کی کمپنی نے میڈیاکو بتایا کہ یہ جہاز اب بھی سمندر پر تیر رہا تھا اور اس پر سعودی حکام سوار بھی موجود تھے تاہم سعودی حاکم نے فوری طور پر واقعے کی تردید یا تصدیق نہیں کی ہے۔

()

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ جہاز کو ایک میٹر کے فاصلے سے نشانہ بنایا گیا جس سے ٹینکر میں خرابی پیدا ہوگئی۔ خوش قسمتی سے عملہ محفوظ ہے۔ دھماکے سے جہاز میں پڑنے والے سوراخوں کو بھر دیا گیا ہے اور وہ منزل کی جانب رواں ہے۔ ادھر برطانیہ کی ایک سیکیورٹی کمپنی ’ایمبری‘ نے دھماکے کی اطلاع دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جہاز کو بارودی سرنگ دھماکے سے نشانہ بنایا گیا۔ نیدرلینڈ سے سفر کا آغاز کرنے والے جہاز کی منزل شقیق کی اسٹیم پاور پلانٹ تھی۔واضح رہے کہ اس حادثہ سے قبل حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے شہر جدہ میں ایک تیل کمپنی کی تنصیبات پر راکٹ حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں ایک ٹینکر ٹوٹ گیا تھا اور اس میں شدید نوعیت کی آگ بھڑک اٹھی تھی۔تیل کی تنصیبات اور تیل بردار جہازوں پر یہ پہلا حملہ نہیں ہے اس سے قبل بھی کئی سانحے پیش آ چکے ہیں جن کی نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی مچی تھی۔عرب ممالک اور اس خطے میں موجود دہشت گرد اور انتہا پسند تنظیمیں ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کے لیے اس قسم کی سرگرمیوں میں اکثر ملوث رہتے ہیں۔حوثی باغی تنظیم خاص طور پر سعودی عرب کو نقصان پہنچانے سے پیچھے نہیں رہتی اور گزشتہ دنوں بھی اس نے راکٹ سے حملہ کر کے آئل تنصیبات کو نقصان پہنچایا تھا۔



Source link

Credits Urdu Points