52سالہ ڈلیوری شخص کی 22سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی

38


ڈیسک نیوز (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 نومبر2020ء) سمجھ سے باہر ہے کہ لوگوں کے ذہنوں پر جنسی ہراسگی کا بھوت اس قدر کیوں سوار رہتا ہے کہ معصوم بچوں اور اپنی عمر سے ڈبل سے بھی زیادہ چھوٹی عمر کے بچوں کو جسمانی زیادتی کا نشانہ کیوں بنا دیا جاتا ہے۔ترقی یافتہ ممالک سے لے کر ترقی پزیرممالک میں یہ واحد ایسا جرم ہے جس کی ریشو کبھی کم نہیں ہو سکی۔حد سے زیادہ سخت قوانین ہونے کے باوجود بھی یہ لوگ اس قسم کے جرائم سے باز نہیں آتے۔گزشتہ دنوں انگلینڈ کے شہر کونٹری میں ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا جہاں اپنے سے نصف کم عمر لڑکی کے ساتھ ایک شخص نے زیادتی کر ڈالی اور اب پولیس کی حراست میں ہے۔رات کے ایک پہر سنسان سڑک پر کھڑی لڑکی پریشان تھی جو اپنے دوستوں کو گنوا بیٹھی تھی اور گھر جانے کے لیے پریشان تھی کہ اسی اثنا میں ایک 52سالہ شخص جو کہ ٹیکسی پر ڈلیوری بوائے کا کام کرتا تھا وہاں سے گزرا۔

()

انسانیت کے ناتے اس نے اکیلی کھڑی لڑکی سے پوچھا کہ کوئی پریشانی ہے تو وہ آپ کی مدد کر سکتا ہے۔لہٰذا لڑکی نے گھر جانے کے لیے اس شخص سے لفٹ لے لی۔اس ادھیڑ عمر شخص نے لڑکی کو اس کے گھر پہنچانے کی بجائے اپنے گھر لے جا کر زیادتی کانشانہ بنا ڈالا جس پر لڑکی نے پولیس میں شکایت کر دی۔ 52سالہ شخص کا کہنا ہے کہ اس نے ایسا کچھ نہیں کیا جبکہ لڑکی اس پر زیادتی کا الزام لگا رہی ہے۔جبکہ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ میڈیکل رپورٹ کے بعد ہی 52سالہ نعیم ملک سلمان کے جرم کا پتا چل سکے گا کہ اس نے یہ جرم کیا ہے یا نہیں۔لڑکی کے گلے اور گھٹنوں پر رگڑ اور کاٹنے کے نشانے بھی پائے گئے تھے جو کہ پولیس نے میڈیکل ٹیسٹ کے لیے رپورٹ کرنے کا کہا۔پولیس نے ڈلیوری بوائے کے کپڑوں کا فرانزک ٹسٹ بھی کرایا ہے تاہم اس ٹیسٹ کی رپورٹ آنا ابھی باقی ہے جس کے بعد ہی اس کے جرم کی نشاندہی ہو سکے گی۔اگر جرم ثابت ہو گیا تو اس شخص کو ریپ کے الزام میں جیل بھیج دیا جائے گا۔



Source link

Credits Urdu Points