مغربی ملک کا اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے پاکستان پر دباؤ

33


اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔25 نومبر 2020ء) : گذشتہ دنوں اسرائیل کے وزیراعظم نتین یاہو اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے مابین ملاقات کی خب رسامنے آئی تھی جس کے بعد مسلم ممالک میں خاص طور پر تشویش کی لہر پائی جا رہی ہے۔اس کے ساتھ ایک نئی بحث بھی شروع ہو گئی ہے کہ اگر سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کر لیتا ہے تو پھر پاکستان کیا کرے گا۔کچھ ایسی خبریں بھی گردش کر رہی ہے کہ ایک عرب ملک کی جانب سے پاکستان پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کر لے۔وزیراعظم عمران خان خود بھی اس بات کا دعویٰ کر چکے ہیں کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے مجھ پر دباؤ ڈالا گیا اور لالچ بھی دیا گیا۔اسی حوالے سے سینئر صحافی سلیم صافی کا کہنا ہے کہ ایک مغربی ملک اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے۔

()

انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سایٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ فوج اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حق میں ہے،اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے سعودی عرب نہیں بلکہ مغربی ملک ڈال رہا ہے۔ اسی حوالے سے تجزیہ پیش کرتے ہوئے سینئر صحافی رؤف کلاسرا نے کہا تھا کہ پاکستان اسٹیبلشمنٹ کے اسرائیل کے ساتھ بیک ڈور رابطے رہے ہیں۔جنرل پرویز مشرف کے دور میں خورشید قصوری اور اسرائیل کے وزیر خارجہ کے درمیان ملاقات ہوئی تھی۔پاکستانی اسٹیبلشمنٹ میں یہ سوچ ہمیشہ سے رہی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم نہ رکھنے کی وجہ سے وہ بھارت کے قریب ہو گیا ہے،۔ اور ایڈوانس جنگی ٹیکنالوجی انڈیا کو دیتا رہا ہے۔ اس لیے پاکستان کو کسی حد تک اسرائیل کو نیوٹرل رکھنا چاہئیے،انہوں نے یاد دلایا کہ 27 فروری کو پاک بھارت جھڑپ کے بعد وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ بھارت اور اسرائیل مل کر ہم پر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔اس پر ان سے سوال پوچھا تھا کہ پاکستان کو کوشش کرنی چاہئیے کہ اسرائیل کو بھارت کی طرف سے زیادہ نہ جانے دے اور اس کے لیےشہزدہ محمد بن سلمان کی مدد لی جا سکتی ہے،انہوں نے بتایا کہ عمران خان نے فلطسین کے حق میں قائداعظم کے موقف کی بات کی تھی اور کہا تھا کہ پاکستان اسی بات پر کھڑا ہے۔



Source link

Credits Urdu Points