مدعی سپریم کورٹ کے جج کےگھر پہنچ گیا، عدالت نےایک لاکھ روپے جرمانہ عائدکردیا

35


سپریم کورٹ میں دائر کیس کی سماعت سے ایک دن قبل مدعی جسٹس مظہر عالم میاں خیل سے ملنے ان کے گھر پہنچ گیا، عدالت نے شہری پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائدکرتے ہوئے رقم ایدھی فاؤنڈیشن میں جمع کروانے کا حکم دے دیا

شہریار عباسی
منگل نومبر
23:03

مدعی سپریم کورٹ کے جج کےگھر پہنچ گیا، عدالت نےایک لاکھ روپے جرمانہ ..

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 نومبر2020ء) سپریم کورٹ میں کیس دائر کرنے والا شخص کیس کی سماعت سے ایک دن قبل جج کے گھر پہنچ گیا ۔ تفصٰیلات کے مطابق کامران بنگش نامی نوجوان کیس کی سماعت کے سلسلے میں جسٹس مظہر عالم میاں خیل سے ملنے ان کے گھر پہنچ گیا ۔ جس پر جسٹس مظہر عالم کی جانب سے شہری کے خلاف مقدمہ درج کروایا گیا۔ جج سے گھر جا کر ملنے کے کیس کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کی۔ سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران جسٹس مظہر عالم میاں خیل نےاستفسارکیاکہ کامران بنگش کون ہے؟ ملزم روسٹرم پر آیا تو جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہاکہ آپ سمجھتےہیں عدالتیں انصاف نہیں کرتیں ؟اس لیے آپ میرے گھر ملنے چلے آئے؟
اس پر کامران بنگش نےکہا کہ میرٹ پر ہی فیصلہ کرنےکی استدعا کی تھی، جس پر جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے ریمارکس دیے کہ آپ کو جیل بھیجیں گےتو میرٹ پر فیصلےکامعلوم ہوگا۔

()

جسٹس مظہرعالم میاں خیل کا کہنا تھا کہ وہ سمجھے کہ ان کا کزن کامران آیا ہے،ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر مجھے کامران بنگش نے کہا میرا کل آپ کے پاس کیس ہے، کوئی درخواست گزار ایسے جج کو ملنےکی جرأت کیسے کرسکتا ہے ؟
عدالت میں ملزم اور اس کے والد کی جانب سےمعافی کی درخواست کی گئی جس پر عدالت نے کامران بنگش کو ایک لاکھ روپے جرمانہ اداکرنےکا حکم دیتے ہوئےکہاکہ آج ہی ایدھی فاؤنڈیشن میں جرمانہ کی رقم جمع کرانا ہو گی یا جیل جاؤ گے۔
جسٹس عمرعطابندیال نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کچھ صورتوں میں ملزم کو جیل بھیجنا قابل اصلاح نہیں ہوتا۔ ملزم کی جانب سے جرمانے کے لیے مہلت طلب کرنے پر عدالت نے استدعا مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ ملزم نوجوان ہے اور اس کے مستقبل کو دیکھتے ہوئے توہین عدالت کی کارروائی نہیں کی جارہی، جس کے بعد ملزم کے والد نےایک لاکھ روپیہ جرمانے کی رقم عدالت میں جمع کرادی۔

متعلقہ عنوان :



Source link

Credits Urdu Points