آذربائیجان کی خواتین کا ترکی اور پاکستان کیلئے شکریہ کا خصوصی انداز

28


آرمینیا کیخلاف جنگ میں بھرپور حمایت کرنے پر آذربائیجانی انفلوئنسرز کی جانب سے اپنے ہاتھوں پر ترکی اور پاکستان کے پرچم بنا کر اظہار تشکر

محمد علی
منگل نومبر
19:23

آذربائیجان کی خواتین کا ترکی اور پاکستان کیلئے شکریہ کا خصوصی انداز

لاہور(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 24 نومبر2020ء) آذربائیجان کی خواتین کا ترکی اور پاکستان کیلئے شکریہ کا خصوصی انداز، آرمینیا کیخلاف جنگ میں بھرپور حمایت کرنے پر آذربائیجانی انفلوئنسرز کی جانب سے اپنے ہاتھوں پر ترکی اور پاکستان کے پرچم بنا کر اظہار تشکر۔ تفصیلات کے مطابق کچھ ہفتے قبل اسلام ملک آذربائیجان اور یورپی ملک آرمینیا کے درمیان خونریز جنگ چھڑ گئی تھی۔ جنگ متنازعہ علاقے نگورنوکاراباخ کی وجہ سے چھڑی۔ نگورنوکاراباخ قانونی طور پر آذربائیجان کا علاقہ ہے جس پر 90 کی دہائی میں آرمینیا نے غیر قانونی قبضہ کر لیا تھا۔ 90 کی دہائی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اس علاقے کے کنٹرول کیلئے کئی جنگیں ہوئیں، تاہم آذربائیجان اپنا علاقہ آزاد کروانے میں ناکام رہا۔

()

نگورنوکاراباخ کے تنازعے کی وجہ سے پاکستان نے ہمیشہ کھل کر آذربائیجان کا ساتھ دیا، اور آرمینیا کو بطور ملک کبھی تسلیم نہ کیا۔

اسرائیل کے بعد آرمینیا واحد ملک ہے جسے پاکستان نے کبھی تسلیم نہیں کیا۔ رواں سال جب آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان دوبارہ جنگ چھڑی، تو پاکستان اور ترکی نے کھل کر اپنے برادر اسلامی ملک کی حمایت کی۔ دہائیوں بعد آذربائیجان نے بھرپور انداز میں جنگ لڑی اور بالآخر مقبوضہ علاقے نگورنوکاراباخ کا بڑا حصہ آزاد کروا لیا۔ جبکہ حال ہی میں آرمینیا نے اپنی شکست کا اعتراف کر کے امن معاہدہ بھی کیا جس کے تحت نگورنوکاراباخ کا مزید علاقہ آذربائیجان کے حوالے کر دیا جائے گا۔ اس امن معاہدے کے اعلان کے بعد آذربائیجان میں فتح کا جشن شروع ہوا جو اب تک ۔ جبکہ پورے آذربائیجان میں فتح کا جشن منانے کے دوران پاکستان اور ترکی کا بھرپور انداز میں شکریہ ادا کیا گیا ہے۔ خوشی سے نہال آذربائیجان کی عوام نے جگہ جگہ پاکستان اور ترکی کے پرچم لہرائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر کچھ آذربائیجانی انفلوئنسرز کی تصویر بھی کافی وائرل ہوئی ہے۔ اس تصویر میں آذربائیجانی انفلوئنسرز اپنے ملک کے لہراتے پرچم کیساتھ کھڑی ہیں اور انہوں نے اپنے ہاتھوں پر آذربائیجان، پاکستان اور ترکی کے پرچم بنا رکھے ہیں۔ اس تصویر کو پاکستانی، ترک اور آذربائیجان کی عوام کی جانب سے خاصا پسند کیا گیا ہے۔

متعلقہ عنوان :



Source link

Credits Urdu Points