اسرائیلی وزیراعظم سے خفیہ ملاقات، شہزادہ محمد بن سلمان کے مفادات سامنے آ گئے

35


اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔24 نومبر 2020ء) : گذشتہ روز خبر سامنے آئی تھی کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور اسرائیلی وزیراعظم نتین یاہو کے مابین خفیہ ملاقات ہوئی، یہ ملاقات اسرائیلی وزیراعظم کے سعودی عرب کے کیے جانے والے سعودی عرب کے خفیہ دورے میں کی گئی۔اس ملاقات کے خطے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے،اسی حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ دونوں لیڈروں کی ملاقات سعودی عرب میں بسائے جانے والے جدید شہر نیوم میں ہوئی تھی۔اس ملاقات کی کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی تاہم بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اس ملاقات کا مرکز ایران تھا۔جب خلیجی ممالک اور سوڈان نے اسرائیل کو تسلیم کیا تو یہی سمجتا جا رہا کہ ان ممالک میں کوئی بڑا ردعمل سامنے آئے گا لیکن ہر طرف خاموشی رہی تو سعودی عرب کو بھی اسرائیل سے تعلقات بہت کرنے کا حوصلہ ہوا۔

()

انہوں نے کہا سعودی عرب اور دیگر ممالک میں یہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے کہ ایک ہی وقت میں ایران اور اسرائیل جیسے دو تگڑے مخالفین نہیں بنانے چاہئیے۔

اس لیے خلیجی مالک نئے بڑے فیصلے کرنے کی ٹھان لی ہے۔کہا جا رہا ہے کہ امریکی صدر کے داماد نے حالیہ ملاقات کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ٹرمپ کی کوشش ہے کہ 20 جنوری سے پہلے ہی وہ عرب اسرائیل تعلقات میں بہتری لے آئیں کیونکہ اس کے بعد جوباییڈن آ جائیں گے۔جوبائیڈن اپنی انتخابی مہم کے دوران انسانی حقوق کے حوالے سے سعودی عرب کے متعلق سخت ریمارکس دے چکے ہیں۔اس لیے سعودی ولی عہد ان کے آنے سے پہلے ہی اقدمات کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس سارے عمل سے محمد بن سلمان یا اسرائیلی وزیراعظمم کو کیا ملے گا؟ ۔ریاستوں کے مفادات سے ہٹ کر ملکوں کے سربراہوں کے  ذاتی مفادات بھی ہوتے ہیں۔شہزادہ محمد بن سلمان پر دو چار حوالے سے تنقید کی جاتی ہے۔ان پر یمن جنگ چھیڑ دینے کی وجہ سے مسلسل تنقید ہوتی رہی ہے۔جمال خشوگی کے قتل کے معاملے پر بھی وہ بہت دباؤ میں ہیں۔ملک کے اندر بھی انسانی حقوق کے حوالے سے ان کے دور کا ریکارڈ اچھا نہیں ہے اور واشنگٹن میں اس حوالے سے سخت ردعمل دیکھنے کو ملتا رہا ہے۔ان وجوہات کی بنا پر وہ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر بنا کر وہ واشنگٹن میں بھی اپنی اہمیت بحال کر سکتے ہیں۔اس کے علاوہ انہیں اندازہ ہے کہ تیل پر انحصار کا دور اب ختم ہو رہا ہے۔اس لیے وہ معیشت میں تنوع لانا چاہتے ہیں جن میں سیاحت  اور ٹیکنالوجی کی ترقی بہت اہم ہے۔انہوں نے مزید کیا کہا ویڈیو میں ملاحظہ کیجئے :



Source link

Credits Urdu Points