امریکہ ایک اور عالمی معاہدے سے دستبردار ہوگیا

44


واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 نومبر ۔2020ء) امریکہ ایک اور عالمی معاہدے سے دستبردار ہوگیا ہے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوپن اسکائیز ٹریٹی سے علیحدہ ہونے کا اعلان کر دیا ہے. معاہدہ کے تحت مختلف ممالک ایک دوسرے کی افواج کا مشاہدہ کر سکتے تھے امریکہ نے فریقین کو اپنے انخلا کے بارے میں باضابطہ طور پر مطلع کر دیا ہے امریکی حکومت نے روس پر الزام لگایا کہ وہ معاہدے کی شرائط پر عمل نہیں کر رہا جس کے باعث علیحدگی کا فیصلہ کیا گیا. روس نے معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کے امریکی الزامات کی تردید کی ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ماسکو نے اس دستاویز پر عمل کرنا شروع کیا تو علیحدگی کا فیصلہ تبدیل کیا جاسکتا ہے جرمنی اور سویڈن نے امریکہ سے اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کو کہا ہے امریکہ نے مئی2020 میں روس کو اپنے فیصلے کے متعلق مطلع کر دیا تھا. امریکی حکومت نے کہا کہ تھا کہ اگر روس 22نومبر تک امریکہ کی طرف سے پیش کردہ شرائط کو پورا نہیں کرتا ہے تو امریکہ مذکورہ معاہدے سے دستبردار ہوجائے گا روس کے نائب وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ اوپن اسکائی ٹریٹی کے فریم ورک کے تحت بات چیت جاری رکھنے کیلئے تیار ہیں لیکن امریکہ کی جانب سے پیش کردہ شرائط قطعی ناقابل قبول ہیں. روس کی جانب سے کہا گیا تھا کہ امریکہ کی علیحدگی سے معاہدہ ختم نہیں ہوجائے گا اوپن اسکائی ٹریٹی سے امریکہ کا انخلا عالمی سلامتی کے نظام کے خاتمے کی طرف اٹھایا گیا ایک اقدام ہے اوپن اسکائی معاہدے میں34 ممالک شامل ہیں اور اس پر 28 سال پہلے دستخط ہوئے تھے فرانس، جرمنی، بیلجیئم، اسپین، فن لینڈ، اٹلی، لکسمبرگ، نیدرلینڈز، چیک جمہوریہ اور سویڈن بھی اس معاہدے کا حصہ ہیں. ادھر امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ وائٹ ہاﺅس چھوڑنے سے پہلے ایسے اقدامات کررہے ہیں ان کے خیال میں نئے صدر کوکارکردگی دکھانے کا موقع نہ ملے اور وہ ایسے اموار کو سلجھانے میں ہی لگے رہیں اسی طرح اعلی عہدوں پر تقرراور تعیناتیاں بھی صدر ٹرمپ کی اسی سوچ کا حصہ ہیں کیونکہ اب انہیں اپنی شکست کا یقین ہونے لگا ہے . دوسری جانب امریکی ریاست پینسلوینیا کے فیڈرل جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کی جانب سے انتخابی نتائج پر حکم امتناع جاری کرنے سے متعلق دائر کردہ درخواست کو رد کرتے ہوئے فیصلہ دیا ہے کہ حکام انتخابی نتائج کی تصدیق کر سکتے ہیں. ڈسٹرکٹ جج میتھیو بران نے فیصلے میں کہاہے کہ ٹرمپ کی انتخابی مہم کی طرف سے قیاس آرائیوں پر مشتمل الزامات ثبوت کے بغیر پیش کیے گئے۔

()

لہذٰا عملہ ووٹوں کی تصدیق کا عمل شروع کر سکتا ہے امریکی ریاست پینسلوینیا کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن کو اپنے حریف ڈونلڈ ٹرمپ پر 80 ہزار سے زائد ووٹوں کی برتری حاصل ہے. جج کا فیصلے میں ریمارکس دیتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ امریکہ کی آبادی کے لحاظ سے چھٹی بڑی ریاست میں کسی ایک ووٹر کے حق رائے دہی کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا صدر ٹرمپ کے وکیل روڈی جیولیانی اور انتخابی مہم کی سینئر مشیر جینا ایلس نے اس فیصلے کو امریکی سپریم کورٹ میں لے جانے سے متعلق مثبت پیشرفت قرار دیا ہے انہوں نے کہا کہ وہ تیسرے امریکی سرکٹ کورٹ آف اپیل سے جلد شنوائی کی اپیل کریں گے.

روڈی جیولیانی جو کہ سابق فیڈرل پراسیکیوٹر اور ریاست نیو یارک کے میئر رہ چکے ہیں نے کئی دہائیوں بعد منگل کو عدالت میں دلائل دیے تھے انہوں نے سماعت کے دوران متعدد بار کہا کہ کاﺅنٹیز کا لوگوں کو ووٹ ڈالنے میں مدد فراہم کرنا غیر قانونی ہے. ٹرمپ کی انتخابی مہم نے عدالت میں موقف اپنایا تھا کہ امریکی آئین ووٹرز کو مساوی تحفظ دیتا ہے تاہم ریاست پینسلوینیا میں ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں میں خامیوں کی نشان دہی کے لیے درست طریقہ نہیں اپنایا گیا پینسلوینیا کی سیکرٹری آف اسٹیٹ اور جو بائیڈن کی انتخابی مہم کی جانب سے عدالت میں موقف اپنایا گیا کہ عدالتیں صدر ٹرمپ کے اس نوعیت کے الزامات پہلے بھی مسترد کر چکی ہیں. بائیڈن کی انتخابی مہم کے وکلا کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ ایسے لاکھوں ووٹس کو مسترد کرانا چاہتے ہیں جو پہلے ہی گنے جا چکے ہیں واضح رہے کہ ریاست پینسلوینیا کی فیڈرل کورٹ میں انتخابات سے قبل بھی صدر ٹرمپ کی جانب سے ڈاک کے ذریعے ڈالے جانے والے ووٹ روکوانے کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی جسے عدالت نے مسترد کردیا تھا بعدازاں ان کے وکیل نے امریکی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی تاہم سپریم کورٹ نے بھی ریاستی عدالت کے فیصلے کو برقراررکھتے ہوئے ٹرمپ کی اپیل مسترد کردی تھی.



Source link

Credits Urdu Points