ہم چاہتے تو اسلام آباد پر حملہ کرسکتے تھے، میاں افتخار حسین

46


پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 22 نومبر2020ء) پی ڈی ایم ترجمان اور اے این کے رہنما میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ہم چاہتے تو اسلام آباد پر حملہ کر دیتے، لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا۔ وزیراعظم کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے میاں افتخار حسین کا مزید کہنا تھا کہ ہم چاہتے تو پہیہ جام کر سکتے تھے، عمران خان کی طرح عدالتیں بند اور سول نافرمانی کا اعلان سکتے تھے مگر ہم نے تو ایسا کچھ بھی نہیں کیا۔ اگر یہ لوگ آئینی اور جمہوری راستے بند کرکے حکومت کی عمر کو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں تو یہ ناجائز اور بد نیتی پر مبنی ہے ۔ اپوزیشن اس کو نہیں مانتی، ہم سمجھتے ہیں کورونا سے زیادہ عمران خان کی حکومت اس ملک کیلئے زیادہ خطرناک ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہر
تشویشناک ہے۔

()

گزشتہ 15 دنوں میں وینٹی لیٹرز پر کورونا کے مریضوں کی تعداد
میں اضافہ ہوا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپوزیشن پر تنقید
کرتے ہوئے وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ
پی ڈی ایم جلسے کر کے عوام کی زندگی اور روزی خطرے میں ڈال رہی ہے،واضح
کردوں اگر اپوزیشن لاکھوں جلسے بھی کر لے تو ان کو این آر او نہیں ملے گا
کیسز ایسے ہی بڑھتے گئے تو لاک ڈاوَن کرنے پر مجبور ہو جائیں گے، مکمل لاک
ڈاوَن ہونے پر نتائج کی ذمہ داری پی ڈی ایم کی ہوگی، ملک بھر میں کورونا
کیسز کی بڑھتی صورتحال تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا
کہنا تھا کہ پشاور اور ملتان میں وینٹی لیٹرز پر مریضوں کی تعداد میں 200
فیصد تک اضافہ ہوا ۔کراچی 148 ،لاہور 114،اسلام آبادمیں 65فیصد مریض وینٹی
لیٹرپرگئے
۔                         



Source link

Credits Urdu Points