میرے والد بھی بچوں کے ساتھ زیادتی کرتے تھے، 10 سالہ بچے سے زیادتی کرنے والے نوجوان کا بڑا انکشاف

48


والد نے میرے سامنے ہمسائے کے بچے سے زیادتی کی جس کے بعد میرا حوصلہ بڑھ گیا، ملزم کا دوران تفتیش دعویٰ

مقدس فاروق اعوان
ہفتہ نومبر
11:42

میرے والد بھی بچوں کے ساتھ زیادتی کرتے تھے، 10 سالہ بچے سے زیادتی کرنے ..

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – 21 نومبر2020ء) بچے سے زیادتی کے ملزم نے دل دہلا دینے والے انکشافات کیے ہیں، ملزم کا کہنا ہے کہ اس کا والدہ ہمسایے کے بچے سے میرے سامنے زیادتی کرتا تھا۔تفصیلات کے مطابق لاہور میں ایک نوجوان نے 10 سالہ بچے کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا تھا۔پولیس نے واقعے کی تفتیش کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا تھا۔اور اب بچے کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے نوجوان کی جانب سے حیران کن انکشافات کیے گئے ہیں۔تفتیش کے دوران ملزم نے بتایا کہ اس نے بچے کے ساتھ اس وجہ سے زیادتی کی کیونکہ اس نے اپنے والا کو بھی ایسا ہی کرتے ہوئے دیکھا۔نوجوان نے ملزم کے سامنے اعتراف کیا کہ اس کے والد عبدالطیف اس کے سامنے ہمسایوں کے بچے سے زیادتی کرتے تھے۔ملزم کی والدہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اس کے شوہر نے یہ گھناؤنی حرکت ڈیڑھ سال قبل شروع کی تھی۔

()

لیکن وہ جب بھی پکڑا جاتا تھا، متاثرہ خاندان کے گھر مجھے بھیجا کر معاملہ سیٹل کرواتا تھا۔

پولیس نے ملزم کا 6 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے جب کہ ملزم کی جانب سے کیے جانے والے دعوے کے بعد اس کے والد کو بھی گرفتار کر لیا گیا جس سے مزید تفتیش کا آغاز کر دیا جائے گا۔پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔دوسری جانب سرگودھا میں تیسری جماعت کی معصوم طالبہ کو زیادتی کے بعد گلا میں پھندا ڈال قتل کر کے مقتولہ کی نعش چھوڑ کر فرار ہونے والے ملزم کو پولیس نے گرفتار کر کے تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر دیا۔زرائع کے مطابق سرگودھا کی تحصیل کوٹ مومن کے علاقہ للیانی میں زمیندار کے اوباش بیٹے نوجوان محمد مبشر نے اپنے ملازم کی بیٹی تیسری جماعت کی طالبہ 9 سالہ سعدیہ سیف کو باغ کنو میں زیادتی کے نشانہ بناتے ہوئے گلے میں اس کی جرسی ڈال کر پھندا دے کر قتل کر دیااور مقتولہ کی برہنہ نعش کنو کے باغ میں چھوڑ کر فرار ہو گیا۔ جس کی نعش برآمد کر کے ٹی ایچ کیو ہسپتال میں پوسٹمارٹم کے بعد طالبہ بچی کی نعش ورثاء کے سپرد کر دی گئی۔

متعلقہ عنوان :



Source link

Credits Urdu Points