خیرپور میں اے آیس آئی بلاول وسان کے قتل کی وجوہات سامنے آ گئیں

39


دوست کو دیا اُدھار واپس مانگنے پر بلاول وسان کو قتل کر دیا گیا۔ میڈیا رپورٹ

سمیرا فقیرحسین
ہفتہ نومبر
10:57

خیرپور میں اے آیس آئی بلاول وسان کے قتل کی وجوہات سامنے آ گئیں

خیرپور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 21 نومبر 2020ء) : خیرپور میں اے ایس آئی بلال وسان کو بے دردی سے قتل کرنے کی وجوہات سامنے آ گئیں۔ بلاول وسان کو دوست کو دیا گیا اُدھار واپس مانگنے پر قتل کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق واقعہ کا مقدمہ بلاول وسان کے قریبی عزیز وسیم وسان کی مدعیت میں 72 گھنٹے بعد درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمہ انسداد دہشتگردی کی دفعات کے تحت 3 نامزد ملزمان سمیت 6 افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے، مقدمے میں ثقلین شاہ، فراز راجپوت اور اس کے والد زاہد راجپورت کو نامزد کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق اے ایس آئی بلاول وسان نے اپنے دوست فراز راجپوت کو 50 لاکھ روپے اُدھار دئے تھے، اُدھار کی رقم واپس مانگنے پر ملزمان نے اے ایس آئی بلاول وسان کو قتل کر دیا ۔ ملزمان نے اے ایس آئی بلاول وسان کو بے دردی سے قتل کرنے کے بعد لاش کو گاڑی سمیت پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔

()

گرفتار ملزمان فراز راجپوت اور ثقلین شاہ نے اعتراف جُرم کر لیا جب کہ ملزمان کو آج انسدادی دہشتگردی کی عدالت میں پیش کر کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جائے گی۔

خیال رہے کہ 18 نومبر کی رات کو بھرگنی کے قریب سے جلی ہوئی ڈبل کیبن گاڑی سے اے ایس آئی بلاول وسان کی مکمل جھلسی ہوئی لاش ملی تھی۔ گذشتہ روز موصول ہونے والی پوسٹمارٹم رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ اے ایس آئی بلاول وسان کو بے دردی سے قتل کرنے کے بعد لاش کو جلایا گیا تھا۔پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ایک دل دہلا دینے والا یہ بھی انکشاف ہوا تھا کہ بلاول وسان کے دونوں ہاتھ اور ٹانگیں کاٹی گئی تھیں جب کہ اس کی کھوپڑی اور پسلیوں میں بھی فریکچر پایا گیا تھا۔پولیس ذرائع کے مطابق دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا جو بلاول وسان کے دوست ہیں۔ کیس میں مزید حقائق سامنے آنے کی بھی اُمید کی جا رہی ہے۔

متعلقہ عنوان :



Source link

Credits Urdu Points