پومپیو اور ڈونلڈ ٹرمپ فلسطین کو دفنانے کے مشن پر تیار

42


یروشلم (اُردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 21 نومبر2020ء) امریکہ کی تاریخ میں یو ایس سیکرٹری آف اسٹیٹ وہ پہلا شخص بن گیا ہے جس نے اسرائیل کی طرفداری میں ساری حدیں پار کرتے ہوئے ویسٹ بینک اور گولن ہائیٹس کے متنازعہ علاقے کا وزٹ کیااور اسرائیل کے حق میں آواز بلند کی ۔ڈونلڈ ٹرمپ کے وفادار ساتھی مائیک پومپیو نے اسرائیل کا دورہ کیااور کہا کہ اسرائیل کے مخالف جذبات رکھنے والے کینسر میں مبتلا ہیں۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو تسلیم کروانے اور گلوبل بی ڈی ایس کی مذمت کرنے کے لیے امریکہ ہر موڑ پر ساتھ کھڑا ہے۔امریکہ نے عندیہ دیا ہے کہ دنیا بھر میں کوئی بھی ادارہ یا تنظیم جو اسرائیل کے بائیکاٹ، پابندی یا احتجاجی پالیسی کی ہمدردی رکھتی ہو گی یا مہم چلائے گی تو اس کا ہر حوالے سے بائیکاٹ کرتے ہوئے پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔

()

مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ وہ اس تنظیم کو جلاوطن کرنے کی بات کر رہے ہیں ہے جو کہ جلاوطنوں کو حقوق دلوانے کی جنگ لڑ رہی ہے۔بی ڈی ایس ایک غیر متشدد تنظیم ہے جو کہ اسرائیل کے مقبوضہ علاقے میں نہتے فلسطینیوں کو ان کے حقوق دینے کی بات کرتی ہے۔اسرائیل نے فلسطین کی زمین پر ناجائز قبضہ کررکھا ہے ا ور دن بہ دن اس کی حدود میں بھی اضافہ ہوتا جا رہاہے جو کہ انٹرنیشنل قوانین کے مطابق بھی ٹھیک نہیں ہے۔اسرائیل یہ سب کچھ اس لیے کر پا رہا ہے کہ اس کے پاس جنگی قوت ہے اور اس سے ٹکر لینے کے لیے فلسطین کے پاس اتنی افرادی قوت اور نیوکلیئر ہتھیاروں سمیت فوجی کمک نہیں ہے۔اس موقعہ پر پومپیو کا دورہ اسرائیل انہیں کھلی چھٹی دینے اور فلسطین پر مزید پنجے گاڑنے کی حمایت کا اعلان ہے۔ٹرمپ اور پومپیو مل کر امریکہ کے سب سے بڑا اتحادی کے لیے کریز سے باہر آ کر کھیلنا اور ضرورت سے زیادہ کچھ کرنا چاہتے ہیں۔چونکہ ڈونلڈ ٹرمپ الیکشن ہار چکے ہیں اور کچھ عرصے بعد انہوں نے ہمیشہ کے لیے وائٹ ہاﺅس سے چلے جانا ہے اس لیے اسرائیلی لابی ایکٹو ہو چکی ہے اور وہ ٹرمپ اور پومپیو کو استعمال کرتے ہوئے کچھ ایسے متنازع فیصلے کروانے کی پوزیشن میں ا ٓچکے ہیں کہ جن کو بعد میں جوبائیڈن چاہتے ہوئے بھی واپس نہ کر سکے۔اگر ٹرمپ اور پومپیو اپنی پالیسی پر گامزن رہے تو یہ فلسطین کے ایشو کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیں گے۔ ٹرمپ اسرائیل کے ساتھ حد سے بھی زیادہ مخلص دکھائی دیتا ہے کیونکہ اس نے امریکی سفارت خانہ بھی یروشلم شفٹ کر دیا تھااور کہا تھا کہ اب یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت ہو گا جس سے دنیا بھر میں احتجاج دیکھنے کو ملا تھا۔تاہم اب صدرتی عہدہ چھوڑنے سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان کون سی خلیج حائل کرنے جا رہا ہے یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔



Source link

Credits Urdu Points