کورونا کی دوسری لہر، کئی ممالک میں لاک ڈاؤن، کرفیو اور سفری پابندیاں عائد

20


واشنگٹن (92 نیوز) کورونا کے بڑھتے کیسز، دنیا کے کئی ممالک دوبارہ لاک ڈاؤن، کرفیو اور سفری پابندیاں عائد کرنے پر مجبور ہوگئے۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی، اسپین، اٹلی، بیلجیئم اور ایران سمیت متعدد ممالک ایک بار پھر مکمل یا جزوی پابندیاں عائد کرچکے ہیں۔

کورونا وائرس کی دوسری لہر، یورپ کےکئی ممالک میں اس بار مختصر اور الگ الگ مدت کیلئے پابندیاں متعارف کروائی گئی ہیں۔ امریکا میں کورونا کا پھیلاؤ سب سے زیادہ ہوا ہے، ٹیکساس، اوریگارن، اوہائیو سمیت کئی ریاستوں میں نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں جب کہ ماہرین 40 ریاستوں میں ایک بار پھر سخت پابندیوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

برطانیہ بیلجیئم، بلغاریہ، کروشیا، فرانس پرتگال، اسپین اور بیلجئیم میں چار سے آٹھ ہفتوں کے لاک ڈاون لگائے گئے ہیں۔ اِن ممالک کا سفر کرنے سے قبل کورونا ٹیسٹ منفی ہونے کا سرٹیفکٹ پیش کرنا ضروری ہے اور لازم ہے کہ یہ ٹیسٹ گزشتہ 72 گھنٹوں میں کیا گیا ہو۔

آسٹریلیا نے نومبر کیلئے اپنے سکی ریزارٹس، ہوٹلز، ریسٹورنٹس اور بارزکو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ شام آٹھ سے صبح 6 بجے تک کرفیو کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

ایران میں بھی ایک بارپھرمکمل پابندیاں عائدکردی گئی ہیں جہاں تمام کاروبار بند کردیئے ہیں۔

لندن، پیرس، برلن اور بارسلونامیں سمارٹ لاک ڈاون ہے جہاں رات کا کرفیو، بارز اور ہوٹلوں کی بندش کے ذریعے کورونا پر قابو پانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وباء پر قابو پانے کیلئے اس وقت امریکا، برطانیہ، چین، روس اور فرانس میں دوڑ لگی ہوئی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں 212 کمپنیاں ویکسین تیار کرنے میں مصروف ہیں جن میں سے 48 کلینیکل ٹرائلز تک پہنچ چکی ہیں۔



Source link

Credits 92News