سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج بننے والی عائشہ اے ملک کون ہیں،تعلیم کہاں سے حاصل کی اور ان کی زندگی کیا نشیب فراز آئے،تمام تر تفصیلی اس کالم میں

62


لاہور(ویب ڈیسک) جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی طرف سے جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی سفارش کے بعد اب ان کی تعیناتی کا معاملہ حتمی منظوری کے لیے ججوں کی تقرری کے بارے میں پارلیمانی کمیٹی کے سامنے رکھا جائے گا۔

صحافی عباد الحق کی بی بی سی پر شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابقملکی تاریخ میں پہلی بار کسی خاتون جج کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا جا رہا ہے۔ تاہم اگر جسٹس عائشہ اے ملک سپریم کورٹ کی جج مقرر نہ ہوتیں تو غالب امکان تھا کہ وہ 2026 میں لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس بن سکتی تھیں جو تاریخی اعتبار سے ایک اعزاز تھا۔جسٹس عائشہ اے ملک 3 جون 1966 میں پیدا ہوئیں اور انھوں نے امریکہ میں ہارورڈ لا سکول سمیت پاکستان اور بیرون ملک سے تعلیم حاصل کی۔ وہ سابق چیف الیکشن کمشنر اور نامور قانون دان جسٹس ریٹائرڈ فخر الدین جی ابراہیم کی ایسوسی ایٹ رہیں اور لگ بھگ چار برس تک یعنی 1997 سے لے کر 2001 تک ان کے ساتھ بطور معاون کام کیا۔55 سالہ جسٹس عائشہ اے ملک اُس لا فرم کا حصہ رہی ہیں جس کو قائم کرنے والوں میں سے ایک جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی تھے۔جسٹس عائشہ اے ملک کو عدلیہ بحالی کی تحریک کے بعد 27 مارچ 2012 کو لاہور ہائیکورٹ کا جج مقرر کیا گیا اور دس برسوں کے بعد لاہور ہائیکورٹ میں کسی خاتون وکیل کا بطور جج تقرر ہوا۔لاہور ہائیکورٹ کی خاتون جج جسٹس غائشہ اے ملک اس وقت سنیارٹی کے اعتبار چوتھے نمبر پر ہیں۔ اور اُن کا تقرر ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پہلے سندھ ہائیکورٹ کے سینیئر ججوں کو نظر انداز کرکے ان کی جگہ پانچویں نمبر پر آنے والے جج کو سپریم کورٹ کے لیے مقرر کیا گیا۔

جسٹس عائشہ اے ملک کے لاہور ہائیکورٹ میں تقرر کے بعد اُس وقت لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے ان کے تقرر کے خلاف ایک قرار داد بھی منظور کی جس میں ان کے تقرر پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ قرار داد اس وقت لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے عاصمہ جہانگر گروپ کے صدر اور لاہور ہائیکورٹ کے موجودہ جج جسٹس شہرام سرور چوہدری کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں منظور کی گئی۔وہ آئینی، بینکنگ، ٹیکس اور انسان حقوق کے امور دسترس رکھتی ہیں۔لاہور ہائیکورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق وہ پاکستان کی مختلف جامعات میں بینکنگ لا اور مرکنٹائل لا پڑھا چکی ہیں۔ انھیں انگلینڈ اور آسٹریلیا میں بچوں کی تحویل، طلاق، خواتین کے حقوق اور پاکستان میں خواتین کے آئینی تحفظ کے کیسز میں ماہر کے طور پر بلایا جاچکا ہے۔انھوں نے مختلف این جی اوز کے ساتھ غربت کے خاتمے، مائیکرو فنانسنگ اور ہنر کی ٹریننگ کے پروگرامز میں معاونت کی ہے۔ وہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی اشاعت آکسفورڈ رپورٹس فار انٹرنیشنل لا اِن ڈومیسٹک کورٹس کے لیے پاکستان کی رپورٹر رہی ہیں۔جسٹس عائشہ اے ملک کے مقبول فیصلوں میں جنسی تشدد کی شکار خواتین کے طبی معائنہ کے طریقہ کے بارے میں فیصلہ بہت نمایاں ہے۔ شریف فیملی کی شوگر ملوں کی جنوبی پنجاب کے علاقے رحیم یار خان منتقلی سے روکنے کا فیصلہ بھی ان کے مشہور فیصلوں میں سے ایک ہے۔ان کی شادی نجی لا کالج کے پرنسپل اور قانون دان ہمایوں احسان سے ہوئی اور ان کے تین بچے ہیں۔سپریم کورٹ کا جج مقرر ہونے کے بعد جسٹس عائشہ اے ملک کی معیاد عہدہ میں تین برس کی توسیع ہوجائے گی۔ پہلے انھوں نے دو جون دوہزار 28 کو ریٹائرڈ ہونا تھا لیکن اب 2031 میں ریٹائر ہوں گی۔اس توسیع سے سپریم کورٹ کی نئی جج جسٹس عائشہ اے ملک اپنی ریٹائرمنٹ سے ایک سال پہلے چیف جسٹس پاکستان بن سکتی ہے جو ایک منفرد اعزاز ہوگا



Source link

Credits HassanNisar.pk