نواز شریف کی مقتدر قوتوں سے ڈیل کی خبریں گرم،پاکستانی سیاست میں ہونی والی بڑی ڈیلز کون سے تھی اور ان کی کامیابی کی صورت میں کیا کیا ڈھیل دی گئی؟؟؟ – Hassan Nisar Official Urdu News Website

47


لاہور(ویب ڈیسک) ‘ڈیل سیاست دانوں کی مجبوری ہے، کیونکہ اس کے بغیر پاکستان میں اقتدار میں آنا ممکن نہیں۔’اردو نیوز سے بات کرتے ہوئےطارق بٹ اور رسول بخش رئیس نے دعوی ٰ کیا کہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی ڈیل 2006-2007 میں فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان ہوئی تھی،

جس کے نتیجے میں نیشنل ری کنسی لیشن آرڈیننس (این آر او) پر دستخط ہوئے تھے۔ جنرل پرویز مشرف کی صدارت جاری رکھنے کی شرط پر بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کے خلاف کیسز ختم کیے گئے تھے۔تاہم اردو نیوز کے مطابق حامد میر کے خیال میں ذوالفقار علی بھٹو کی جنرل یحییٰ خان کے ساتھ سنہ 1971 میں اقتدار کے لیے ڈیل تاریخ کی سب سے بڑی ڈیل تھی، جس کے نتیجے میں شیخ مجیب الرحمان کے الیکشنز میں اکثریت حاصل کرنے کے باوجود ان کے بجائے ذوالفقار علی بھٹو وزیراعظم بنے اور پھر ایک سویلین یعنی ذوالفقار علی بھٹو کو صدر اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا گیا تھا۔حامد میر کہتے ہیں کہ سنہ 1971 میں ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل یحییٰ خان کے درمیان ڈیل ہوئی اور بھٹو اقتدار میں آگئے، تاہم اس ڈیل کے باوجود بھی بھٹو کو آٹھ سال بعد سنہ 1979 میں پھانسی دے دی گئی۔’ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سیاست دانوں کو یہ سبق سکھانے کے لیے کافی تھی کہ انہیں اسٹیبلشمنٹ پر اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔”لیکن اس سے ان کی صاحبزادی سمیت باقی سیاست دانوں نے سبق نہیں سیکھا اور بار بار دھوکے کھائے۔’ان کے مطابق ’سنہ 1988 میں بے نظیر بھٹو انتخابات جیت گئیں تو اسٹیبلشمنٹ نے اقتدار دینے سے قبل ان سے ڈیل کی اور منوایا کہ ان کے وزیر خارجہ صاحبزادہ یعقوب علی خان اور وزیر خزانہ وی اے جعفری ہوں گے۔‘’یہ دونوں صاحبان اس وقت کے صدرغلام اسحاق خان اور اسٹیبلشمنٹ کے نامزد کردہ تھے۔

اسی ڈیل میں طے ہوا کہ بے نظیر بھٹو صدر کے انتخابات میں غلام اسحاق خان کی حمایت کریں گی جبکہ تحریک بحالی جمہوریت یعنی ایم آر ڈی کی جماعتوں نے نوابزادہ نصر اللہ خان کو صدارتی امیدوار نامزد کیا تھا۔‘حامد میر کہتے ہیں کہ ’اس ڈیل کے نتیجے میں غلام اسحاق خان ہی صدر بنے اور پھر انہوں نے ہی مئی 1990 میں بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کر دی۔ گویا اس ڈیل سے بھی بے نظیر بھٹو کو فائدہ نہ ہوا۔‘’اس کے بعد اسی سال نواز شریف وزیراعظم بنے تو ان کی بھی اسٹیبلشمنٹ اور غلام اسحاق خان کے ساتھ لڑائی ہو گئی۔‘ان کے مطابق ’اس پر سنہ 1993 میں بے نظیر بھٹو نے غلام اسحاق خان کو ٹریپ کیا اور امید دلائی کہ نواز شریف کی حکومت ختم ہونے پر پیپلز پارٹی ان کو ہی صدر بنائے گی تاہم اب کی بار انہوں نے ایسا نہیں کیا اور صدارتی انتخابات کا وقت آیا تو فاروق لغاری کو اپنا امیدوار بنا دیا۔‘حامد میر بتاتے ہیں کہ ’بے نظیر نے فاروق لغاری کو اس لیے چنا تھا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کو قابل قبول ہوں گے مگر فاروق لغاری نے سنہ 1996 میں ان کی حکومت ختم کردی اور نواز شریف سے خفیہ ڈیل کرلی۔انہوں نے بتایا کہ ‘جھنگ کی سیاست دان سیدہ عابدہ حسین کی مدد سے کی جانے والی ڈیل میں طے ہوا تھا کہ فاروق لغاری بے نظیر حکومت کو ہٹائیں گے اور نواز شریف برسراقتدار آکر انہیں دوبارہ صدر بنوا دیں گے۔ اس ڈیل میں اسٹیبلشمنٹ بھی شامل تھی۔’’

اس کے بعد نواز شریف وزیراعظم بنے تو ان کی فاروق لغاری سے لڑائی ہوگئی۔ انہوں نے اپنے اس دور میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ، آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت اور صدر فاروق لغاری کو نکال دیا۔‘ان کا کہنا ہے کہ ’کچھ وقت تک تو ایسے لگا کہ وہ ناقابل شکست ہیں مگر پھر سنہ 1999 میں نواز شریف کی حکومت ایک فوجی بغاوت میں جنرل مشرف نے ہٹا دی۔ پھر بے نظیر بھٹو نے سنہ 2007 میں جنرل پرویز مشرف سے ڈیل کرلی۔‘حامد میر کے بقول ‘یہ ڈیل امریکہ اور برطانیہ نے کروائی تھی اور اس ڈیل کے مطابق بے نظیر بھٹو نے وردی اتارنے پر صدر پرویز مشرف کی حمایت کرنا تھی، جس پر ان کے سارے کیسز ختم ہونا تھے۔”لیکن ڈیل کے تحت بے نظیر بھٹو کو واپس نہیں آنا تھا مگر پھر بھی وہ واپس آئیں اور انہیں شہید کردیا گیا۔ گویا انہیں اس ڈیل سے بھی کوئی فائدہ نہ ہوا۔‘حامد میر کے مطابق ’نواز شریف نے بھی دو تین مرتبہ ڈیل کی مگر ‘انہیں بھی نکال دیا گیا۔’رسول بخش رئیس کا کہنا تھا کہ ’سنہ 1988 میں بے نظیر بھٹو اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان طے ہوا تھا کہ خارجہ پالیسی خصوصاً افغانستان پر مشاورت کرنی ہے اور جنرل ضیا الحق کے خاندان کو کچھ نہیں کہنا۔‘’مگر وہ ایسی ڈیل نہ تھی، اصل ڈیل وہ تھی جب پرویز مشرف نے انہیں این آر او دیا تھا۔ جب وکلا تحریک کی وجہ سے مشرف کمزور ہو چکا تھا تو وہ بے نظیر بھٹو کے سامنے گھٹنے ٹیک گیا اور ہر بات مان گیا۔’

اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے رسول بخش رئیس کہتے ہیں ‘دوسری طرف بے نظیر بھٹو ہر صورت میں اپنے خلاف کیسز کا خاتمہ چاہتی تھیں اور پھر امریکی اور برطانوی سفارت کاروں کا دباو بھی تھا اس لیے ڈیل ہوگئی۔’ ڈاکٹر رسول بخش رئیس کے مطابق ’نواز شریف بھی مشرف سے ڈیل کر کے جیل سے بیرون ملک گئے تھے۔‘ اس کے علاوہ جب غلام اسحاق خان اور نواز شریف کی 90 کی دہائی میں لڑائی حد سے بڑھی تو بھی اس وقت کے آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ نے ڈیل کروائی تھی کہ دونوں استعفیٰ دیں اور تازہ الیکشنز ہوں۔‘



Source link

Credits HassanNisar.pk