رافیل طیاروں کا توڑ یا کچھ اور ۔۔۔!!!کب اور کیا سرپرائز پاکستان آرہا ہے ؟پاکستانیوں کو بڑی خوشخبری سنا دی گئی – Hassan Nisar Official Urdu News Website

33


اسلام آباد (ویب ڈیسک) ایک دیرینہ روایت رہی ہے کہ پاکستان اپنے زیرِاستعمال فوجی ہتھیاروں اور ساز و سامان کی 23 مارچ کی پریڈ میں نمائش کرتا آیا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق عام طور پر یہ نمائش دشمن کے لیے ہوتی ہے اور اپنے دستوں کو دکھانے کے لیے بھی کہ

پاکستان کی صلاحیت کیا ہے اور وہ عسکری لحاظ سے کس طرح کی طاقت رکھتا ہے۔پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) کے ترجمان نے اس اعلان پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے کہ 23 مارچ کی پریڈ میں ‘جے-10’ طیاروں کے دو سکواڈرن حصہ لیں گے۔تاہم اس سے قبل وزیر داخلہ شیخ رشید اس حوالے سے اعلان کر چکے ہیں جسے انڈین میڈیا میں کافی نمایاں انداز میں شائع کیا گیا تھا اور یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان ان طیاروں کو خرید رہا ہے۔ایک سرکاری افسر نے بتایا کہ ’اب تک کوئی ڈیل یا معاہدہ نہیں ہوا جس پر اس لڑاکا طیارے کی خریداری کے سلسلے میں دستخط ہوئے ہوں۔‘مشرف حکومت کے آخری دنوں میں بھی پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان چین سے ‘جے-10’ طیارے خریدے گا لیکن معاشی و اقتصادی مشکلات کے سبب یہ منصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا تھا۔ ان دنوں میں بھی یہ اعلان شیخ رشید نے ہی کیا تھا جو اس وقت پاکستان مسلم لیگ (ق) کے وزرا پر مشتمل کابینہ کا حصہ ہوا کرتے تھے۔ماہرین کی رائے ہے کہ کیونکہ شیخ رشید کی موجودہ وزارت کا ان معاملات میں کوئی عمل دخل نہیں، اس لیے جے-10 طیاروں کی خریداری کے معاملے میں ان کے بیان کی صداقت کے حوالے سے کچھ یقین سے نہیں کہا جا سکتا۔ادھر وزارت دفاعی پیداوار کی ’ایئر بُک‘ (سالانہ کتابچہ) میں جے-10 لڑاکا طیاروں کی خریداری، ان کی مرمت و بحالی، ’اووَرہال‘ (ایم آر او)، کی سہولیات سے متعلق کوئی ذکر موجود نہیں جبکہ عام طور پر ایسی خریداری کا ’ایئر بُک‘ میں ذکر شامل ہوتا ہے۔وزارت دفاعی پیداوار کی طرف

سے آخری بار ’ایئر بُک‘ 2021 کی آخری سہہ ماہی میں جاری ہوئی تھی جس میں اس خریداری کے بارے میں کوئی ذکر نہیں۔دوسری وجہ یہ ہے کہ پاکستان آرمی نے حال ہی میں ‘ایچ کیو-9’ زمین سے فضا میں ٹارگٹ کرنے والے ہتھیارحاصل کیے ہیں جو انڈیا کی طرف سے خریدے گئے رفال طیاروں کو اپنے علاقے سے دور رکھنے کی صلاحیت کے حامل ہیں۔شیخ رشید نے دعویٰ کیا تھا کہ جے-10 انڈین رفال طیاروں کے مقابلے کے لیے حاصل کیے جا رہے ہیں۔اکتوبر 2021 میں جب یہ ‘ایچ کیو-9’ مزائل پاکستانی فوج کے ہتھیاروں میں شامل کیے گئے تو آرمی چیف نے کہا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی کے حامل ان مزائلز کے حصول سے لاحق خطرات سے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہو گیا ہے۔ماہرین کہتے ہیں کہ ایچ کیو-9 اتنا موثر ہے کہ یہ پاکستانی فضائی حدود میں کسی انڈین لڑاکا طیارے کو داخل ہونے نہیں دے سکتا۔ مگر دوسری طرف جے-10 طیاروں کی نمائش کا مقصد دراصل اس لیے ہے کیونکہ انڈین فوج اور ذرائع ابلاغ کے حلقوں میں رفال لڑاکا طیاروں کے شامل ہونے پر بڑا جوش و جذبہ اور چرچا جاری ہے۔ ایک ماہر نے کہا کہ ’پاکستان اپنے جشن کے ذریعے انڈین پراپیگنڈے کو رد کرنا چاہتا ہے۔‘ماہرین کے مطابق جے-10 طیارہ ‘میری ٹائم’ (بحری یا سمندری) کردار کے لیے انتہائی موزوں ہے خاص طور پر بحیرۂ عرب کے گہرے پانیوں میں قسمت آزمائی کی پاکستانی بحریہ کی نئی سوچ کی روشنی میں۔پاکستان کے موجود طیاروں میں کوئی ایسا طیارہ موجود نہیں جو سمندری یا بحری حدود میں امور کار انجام

دینے کی بہترین صلاحیت رکھتا ہو۔ماہرین کے مطابق پاکستانی بحریہ نے اپنی ’سٹریٹیجک تھنکنگ‘ (حکمت عملی) کو از سر نو مرتب کیا ہے تاکہ وہ بحیرۂ عرب کی گہرائیوں میں اپنا کردار ادا کر سکے۔ ایک ماہر نے بتایا کہ ’اس کردار کو بخوبی نبھانے میں جے-10 نہایت موثر اور کارگر کردار ادا کرے گا۔‘ماہرین کے مطابق جے-10 بحری جہاز تباہ کرنے والے موثر مزائلز سے لیس ہوتے ہیں۔چین نے حال ہی میں پاکستانی بحریہ (نیوی) کو جدید ترین ‘فری گیٹ’ (بحری جہاز) فراہم کیے ہیں جو پاکستان کے عسکری عزائم کی تکمیل میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔جب سے پاکستان کی وفاقی حکومت نے چینی لڑاکا طیاروں کی یوم پاکستان کی پریڈ میں شمولیت کی تصدیق کی ہے، اس وقت سے علاقائی اور عالمی ذرائع ابلاغ میں یہ بحث جاری ہے کہ رفال اور جے-10 لڑاکا طیاروں میں سے کون سا طیارہ زیادہ بہتر ہے۔پاکستانی ایئر فورس مشرف دور سے اپنے میراج طیاروں کے بیڑوں کو تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔پاکستان نے میراج طیارے 1967 میں خریدے تھے۔ یہ پاکستان ایئر فورس کی فضائی قوت میں ’سٹریٹیجک فورس‘ کے طور پر بروئے کار آتے رہے ہیں لیکن اب یہ اپنی مدت پوری کر چکے ہیں۔دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستانی فوج کے منصوبہ سازوں میں یہ سوچ بہت ہی راسخ ہے کہ میراج طیاروں کو چینی ساختہ جے-10 طیاروں سے تبدیل کر دیا جائے جو نہ صرف دشمن کے علاقے کے اندر جا کر موثر کارروائی کرنے اور ہدف پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ انھیں سٹریٹیجک فورس کا بھی حصہ بنایا جا سکتا ہے۔پاکستان ایئر فورس چینی ساختہ لڑاکا طیارے جے-10 کے چناﺅ کے پورے عمل سے پہلے ہی گزر چکی ہے تاکہ میراج طیاروں کو تبدیل کیا جائے جو آج کی تاریخ تک ممکنہ طور پر پاکستان فضائیہ کے سٹریٹیجک ہتھیاروں سے لیس واحد طیارے ہیں۔(بشکریہ : بی بی سی )



Source link

Credits HassanNisar.pk