ان دو کمزوریوں نے تو برطانیہ جیسی طاقت کا چراغ گل کر دیا تھا ہم کس کھیت کی مولی ہیں ۔۔۔۔۔؟؟جاوید چوہدری نے حکمرانوں اور عوام سبھی کو آئینہ دکھا دیا ، صحافت کا فرض ادا – Hassan Nisar Official Urdu News Website

26


لاہور (ویب ڈیسک) آپ آج محکمہ صحت سے لے کر ٹیکس کولیکشن تک سارے سرکاری ادارے دیکھ لیں آپ کو ایک بھی ادارہ کام کرتا دکھائی نہیں دے گا‘ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیں کیا پارلیمنٹ اور بیورو کریسی کے کسی رکن کا کوئی بچہ سرکاری اسکول میں پڑھ رہا ہے‘


نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ لوگ ٹونٹی کا پانی پی رہے ہیں‘ سرکاری اسپتال میں علاج کرا رہے ہیں‘ سرکاری وکیل کے ذریعے اپنا مقدمہ لڑ رہے ہیں‘ کیا یہ گارڈ کے بغیر رات کے وقت اپنے سرکاری گھر میں سو سکتے ہیں اور کیا یہ سرکاری ادویات کھا رہے ہیں؟ جی نہیں! کیا اس کا مطلب یہ نہیں ہمارا سارا سرکاری اور ریاستی نظام دم توڑ چکا ہے‘ ہم زرعی ملک ہونے کے باوجود اپنی ضرورت کی گندم بھی نہیں اگا پا رہے۔ہم سے چینی‘ پٹرول اور ادویات بھی کنٹرول نہیں ہو ر ہیں اور ہم کورونا کے ایس او پیز پر بھی عمل درآمد کے قابل نہیں ہیں‘ ریاست کی حالت یہ ہے یہ فیض آباد کا دھرنا ختم کرانے کے لیے بھی مظاہرین کی تمام شرائط ماننے کے لیے تیار ہو جاتی ہے اور ان شرائط میں فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنا بھی شامل ہوتا ہے گویا ہم ایک ایسا ملک بن چکے ہیں جس میں سفارت کاری کے فیصلے بھی دھرنوں کے ذریعے ہو رہے ہیں‘ آپ آج عدالتوں میں چلے جائیں‘ مقدموں کا انبار ہے اور ججز کی تعداد انتہائی کم ہے ‘ اسپتالوں کا دورہ کر لیں‘ سڑک سے او ٹی تک مریض ہی مریض ہیں‘ تعلیمی ادارے ڈگریوں کے پرنٹنگ پریس بن چکے ہیں‘ پاکستان ہیپاٹائٹس سی میں دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے‘ 52 فیصد آبادی بلڈ پریشر کی مریض ہے۔ ہم شوگر میں چوتھے نمبراور ٹی بی میں دنیا میں پانچویں نمبر پر آتے ہیں‘


دنیا میں صرف دو ملکوں میں پولیو موجود ہے اور ہم دوسرا ملک ہیں‘ ملک میں مذہبی منافرت انتہا کو چھو رہی ہے‘ کوئی کسی کو بھی کسی بھی وقت کافرکہہ دیتا ہے اور ریاست پتلی گلی سے نکل جاتی ہے‘ لوگ عدالتوں میں زندگی سے محروم ہو جاتے ہیں اور جج اور وکلاء زمین پر لیٹ کر جان بچاتے ہیں ‘ ہماری پوری اکانومی قرضوں کی مرہون منت ہے‘ آج چین‘ سعودی عرب اور امریکا ہاتھ کھینچ لے‘ ہمیں آج ایف اے ٹی ایف بلیک لسٹ میں ڈال دے تو ہم کل ڈیفالٹ کر جائیں گے لیکن 1971 کا پاکستان اس سے بالکل مختلف تھا‘ صدر بھی ٹونٹی کا پانی پیتا تھا اور اس کے بچے بھی سرکاری اسکولوں میں پڑھتے تھے۔ یہ حقائق خوف ناک ہیں لیکن ان حقائق سے بھی زیادہ خوف ناک حقیقت یہ ہے کہ ہم ان حقائق کو حقیقت ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں‘ ہم یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں دنیا بدل بھی چکی ہے اور یہ ہم سے بہت آگے بھی جا چکی ہے‘ ہم یہ ماننے کے لیے ہی تیار نہیں ہیں ہمارے سارے مسئلے ہمارے اپنے پیدا کیے ہوئے ہیں‘ ہم نے دنیا میں اپنا کوئی ایک دوست نہیں چھوڑا‘ روس سے لے کر امریکا تک ہم نے سب کے ساتھ سینگ پھنسا رکھے ہیں‘ ہم اندر بھی لڑ رہے ہیں اور باہر بھی‘ ہم چڑیا گھر کا ایک ہاتھی نہیں پال سکتے لیکن ہم دہلی کے لال قلعے پر پرچم لہرانا چاہتے ہیں۔ہم یہ ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں ہم دنیا میں غیرمتعلقہ ہو چکے ہیں‘ آج سعودی عرب نے تاریخ میں پہلی بار بھارت کے آرمی چیف کو سرکاری دورے پر بلا لیا اور امریکا اور او آئی سی نے کشمیر پر بھارت کاموقف مان لیا‘ ہم یہ ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں بنگلہ دیش ہم سے آگے نکل چکا ہے اور ہم یہ بھی ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں ہمیں ہمارے تنازعے کینسر کی طرح کھا رہے ہیں‘ خدا کے لیے آنکھیں کھولیں‘ پنجابی ازم سے باہر آئیں اور تنازعے اور لڑائیاں ختم کریں کیوں کہ یہ دونوں وہ چیزیں ہیں جنھوں نے برطانیہ جیسی طاقت کا سورج بھی گل کر دیا تھا‘ ہم کس کھیت کی مولی ‘ کہاں کے سورما ہیں لہٰذا ہوش کریں اور آنکھیں کھولیں۔۔۔









Source link

Credits HassanNisar.pk