اتنی پیسے محترمہ فاطمہ جناح نے ساری زندگی شاپنگ پر نہیں لگائے ہونگے جتنے مریم نواز ایک وقت کی شاپنگ پر خرچ کرتی ہے ۔۔۔خود ساختہ فاطمہ جناح ثانی کا پول کھول کر رکھ دیا گیا – Hassan Nisar Official Urdu News Website

31


لاہور (ویب ڈیسک) پہلے تو علی عمران ابن صفی کے ناولوں میں زبردستی لے جایا جاتا تھا تھا ہمیں کیا پتہ تھا کہ علی عمران ہماری آنکھوں کے سامنے بھی ایسا ہو گا اور زندہ سالم،نوا نکور اپنی امی کے گھر سے بر آمد ہو گا۔سکرپٹ دونوں کے جاندار بھی ہیں اور شاندار بھی۔


نامور کالم نگار ایثار رانا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔رحم آتا ہے مجھے اداروں اور حکمرانوں پر،سارا دن تھو تھو ہوتی رہی،ساری رات روتے رہے اور……بھیا علی عمران اگر امی کے پاس جانا تھا تو ویسے بتا دیتے۔لیکن چلیں یوں لگتا ہے کہ آج کل اپوزیشن کی پوں بارہ ہے مزار قائد سے لے کر علی عمران ہر ایپی سوڈ ان کے کھاتے میں جا رہا ہے ان کی ریٹنگ بڑھ رہی ہے،دوسری طرف حکومت کا ہر چھکا کانا ثابت ہو رہا ہے۔سوچتا ہو ں کہ کیا واقعی ادارے عمران خان کے لئے ہمدرد ہیں؟۔”چارے پاسے“حکومت کی بِستی سی نہیں ہو جاتی۔ ہمارے داماد جی نے مزا ر قائد پر محترمہ فاطمہ جناح کے نعرے لگائے اچھا کیا۔لیکن بھیا ایک بات تو بتاو محترمہ فاطمہ کا قصور ہے کیا؟اب آپ مریم بی بی کو فاطمہ جناح ثانی بھی قرار دے رہے ہیں بھیا میرے اللہ ہماری مریم بی بی کو سلامت رکھے جتنی قیمت ان کے ایک جوڑے،ایک گھڑی،ایک موبائل اور سینڈلز کی بنتی ہے ان سب پیسوں کو یکجا کرلیں تو اتنے پیسوں کی محترمہ فاطمہ جناح نے شاید ساری زندگی شاپنگ نہ کی ہو۔لگاو خوب نعرے لگاو لیکن خدارا یہ ثانی وانی ایڈونچر بند کردو۔ایویں کسی معصوم کی روح کو کیوں اذیت دیتے ہوبہتر ہوتا آپ نعرے لگانے سے پہلے خرم دستگیر سے بھی مشورہ کر لیتے کون سی دلی لٹ جانی تھی۔ استاد خاموشی کے فائدے پر لیکچر دے رہاتھاآخر میں بولے اب بتائیں جو شخص مسلسل بولتا ہے اسے ہم کیا کہیں گے؟،اپنا سنتا سنگھ بولا ”انیوں ٹیچر کہاں“گے۔


لیکن سیاست میں شاید اسے داماد کہتے ہیں،”چھڈ دیو“جان ان محسنوں کی۔جن کی ہم ان کے جیتے جی حفاظت نہ کر پائے،تب کہاں تھے ہم جب یہ سڑکوں کے کنارے کھڑی خراب ایمبولینسوں میں اپنے گھر کے تاریک کمروں میں بھرے جلسوں میں جان سے گئے۔۔جمہوریت ”وڑ گئی بھا نڈے“ میں وہ آپ کے گھڑے کی مچھی ہے آپ ان رہنماؤں کو معاف کریں اتنی ٹوپیاں ہیں کوئی اور بھی گھما لیں۔جوں جوں اپوزیشن کا رولا رپّا بڑھ رہا ہے خان صاحب کے سپیکر سے آوازیں بلند ہو رہی ہیں ”ضد نہ کر سوہنیا خان تے آپ بڑا ضدی اے“ زیادہ ضد دلائی تو خان صاحب جوگنگ ٹریک میں لندن پہنچ جائیں گے۔ہمارا کپتان ”اچیاں شاناں تے“تھوڑا سا ”پٹھے دھیاناں“ والا ہے۔پاہ جی،کپتان جی ہمیں نواز شریف نہیں روٹی چاہیے آٹا،گھی،چینی چاہیے۔بنتا سنگھ جہاز میں بیٹھا تھا اچانک ایک خوبصورت خاتون ان کے ساتھ والی سیٹ پر آکر بیٹھ گئیں،بنتا سنگھ بولا یہ سیٹ آپ کی نہیں ہے،خاتون بولیں آپ کو کیسے پتہ ہے؟،بنتا بولا کیونکہ مینو اپنی قسمت دا پتہ ہے۔خان جی حالانکہ ہمیں بھی اپنی قسمت کا پتہ ہے جس میں اس خاتون جیسی خوبصورت،جمہوریت لکھی ہے نہ اس کے قرب کی لذت۔لیکن بھائی خدارا آپ انگلینڈ نہ جاؤ جتنی محنت آپ انہیں واپس لانے میں لگا رہے ہو اس سے آدھی عوام کی مشکلات ختم کرنے میں لگادو تو شاید جنموں سے ترسی،بھوکی،پیاسی قوم کو سکھ مل جائے۔انکی پریشان آتما کو شانتی مل جائے۔۔ورنہ جمہوریت کے شانتے تو مل ہی رہے ہیں۔ان کے پاؤں جمہوریت کی نام نہاد شاہراہ پر ٹاپو ٹاپ چلتے چھلنی ہو گئے اب تو آبلے بھی نہیں رہے۔


کیسی جمہوریت ہے جس میں چینی آٹےو الے گروپ لٹیرے لفنگے، حکمران ہوتے ہیں اور انہیں نام نہاد الیکشن کے ذریعے اقتدار تک پہنچانے والے سسک سسک کر مر رہے ہوتے ہیں۔روٹی نہ اپوزیشن کی ملکہ کا مسئلہ نہ حکومت کے پرنس کا،یہ جن کا مسئلہ ہے وہ خود شاید اس دھرتی پر سب سے بڑا مسئلہ ہیں۔فیر آپ کہتے ہیں ”بوٹا گالاں کڈتا“ہے وہ ”گالاں نا کڈے“ تو پھر کیا کرے؟۔ہمیں روٹی ٹْکر سے فرصت نہیں ”تہانو“ نواز شریف،فاطمہ جناح سے۔بھیا میرے ۔۔”آپے پاناں ایں کنڈیاں“۔۔”تے آپے کھچنا ایں ڈور“۔۔”ساڈے ول مکھڑا موڑ“۔۔”او پیاریا،ساڈے ول مکھڑا موڑ“۔۔کاش میرا اس مرن جوگے ایف اے ٹی ایف سے سامنا ہو جائے میں بھی سنی دیول کی طرح اس کا گریبان پکڑ کر کہوں، تاریخ پہ تاریخ،تاریخ پہ تاریخ ”دسو کی کریئے“آپ کے سامنے”کن پھڑ“ لئے،”گوڈوں“بھار بیٹھ گئے ابھی آپ کا دل نہیں بھرا۔مانا ہم غریب ہیں،بھکاری ہیں،بھوکے ننگے ہیں۔آئی ایم ایف،ورلڈ بنک،ایف اے ٹی ایف سب مل کر ہمارے ساتھ ”باندر کِلا“ کھیل رہے ہیں۔چِٹ بھی آپ کا پٹ بھی آپ کا۔ ۔جان کر ان ممالک میں حریص کو تا ہ چشم قیادتوں کو پروان چڑھاتے ہو۔ان سے ان ممالک کو رضیہ کی طرح غنڈوں میں پھنساتے ہو اور پھر اجلا س اجلاس کھیلتے ہو۔بنتا سنگھ بہت پریشان تھا اس نے ڈھارس لینے کے لئے اپنے دوست سنتا سنگھ کو فون کیا،پچاس منٹ گفتگو کے بعد فون بند کرتے ہوئے بولا پریشان نہ ہو اللہ بہتر کرے گا،میں اب اس قوم سے کیا ڈھارس لوں آخر میں یہی کہنا پڑے گا پریشان نہ ہو اللہ بہتر کرے گا۔








Source link

Credits HassanNisar.pk