حکومت نے آرمی چیف کی مُدت ملازمت میں توسیع کا حل نکال لیا

91
حکومت نے آرمی چیف کی مُدت ملازمت میں توسیع کا حل نکال لیا

اسلام آباد (اُردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 17دسمبر2019ء) میڈیا ذرائع کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ملازمت میں توسیع دلانے کے لیے حکمت عملی طے کر لی ہے ۔ میڈیا کے مطابق حکومت نے اس سلسلے میں مختلف آپشنز پر غور شروع کر دیا ہے۔ ایک آپشن تو یہ ہے کہ توسیع کے حوالے سے سُنائے جانے والے عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جائے گی اور دوسری آپشن یہ ہے کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کی خاطر پارلیمنٹ سے اس کی منظوری کرا لی جائے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرمی چیف کی ملازمت کی مُدت میں توسیع کی خاطر آئین میں ترمیم نہیں کرنا ہو گی، بلکہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کی جائے گی۔ جو کہ پارلیمنٹ میں موجود ارکان کی اکثریت کے فیصلے سے بھی ہو سکتی ہے۔

()

اس طرح آئین میں ترمیم کے مشکل ترین مرحلے سے نہیں گزرنا پڑے گا۔ ذرائع کے مطابق حکومتی ماہرینِ قانون عدالتی فیصلے پر اپیل سے متعلق مشاورت کررہے ہیں اور اس سلسلے میں وزیر قانون فروغ نسیم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور معروف قانون دان بابر اعوان کو ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

جبکہ ترمیم کے مسودے پر حزب اختلاف کی جماعتوں کو بھی متفق کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزارت دفاع اور متعلقہ ادارے سے بھی حتمی فیصلے سے قبل مشاورت کی جائے گی تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ وزیر اعظم عمران خان کریں گے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز گزشتہ روز آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کا 43 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ سُنایا گیا جسے جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا ہے۔اس فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر پارلیمنٹ قانون نہ بنا سکی تو جنرل باجوہ چھ ماہ بعد ریٹائر ہو جائیں گے ۔ اسی طرح اگر چھ ماہ کے اندر مُدت ملازمت میں توسیعی مُدت کا تعین نہیں کیا جاتا تو پھر ایسی صورت میں موجودہ آرمی چیف کو ایکسٹینشن نہیں دی جائے گی۔ اور صدر مملکت کو نئے آرمی چیف کا تقرر کرنا ہو گا۔ میڈیا ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں قانونی ٹیم وزیر اعظم عمران خان کو سپریم کورٹ کے فیصلے پر تفصیلی بریفنگ دے گی۔سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں قانونی سْقم ہیں، جس سے بنیادی تصور ہی ہِل گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سپریم کون ہے، عدالت عظمیٰ یا پارلیمان؟

Source link

Credits Urdu Points