اس بات پر قائم ہوں کہ جیل کے اندر شہباز گل پر تشدد نہیں ہوا

7


لاہور (اُردو پوائنٹ ،اخبارتازہ ترین۔ 05 اکتوبر2022ء) وزیر داخلہ پنجاب ہاشم ڈوگر کا کہنا ہے کہ میں اپنی اس بات پر قائم ہوں کہ جیل کے اندر شہباز گل پر تشدد نہیں ہوا۔انہوں نے اردو نیوز کو دئیے گئے انٹرویو میں کہا کہ میرا آج بھی وہی موقف ہے جو میرے چئیرمین کا ہے کہ جس شام ان کو بنی گالا کے باہر سے گرفتار کیا گیا اس کے بعد دو راتیں وہ اسلام آباد پولیس کی حراست میں رہے۔اس دوران اُن پر تشدد کیا گیا اور خاصا خوفناک تشدد کیا گیا۔اس کے بعد وہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں آ گئے۔اب جیل میرے انڈر آتی ہے۔وہاں پر ان کو نارمل انداز میں رکھا گیا، جیسے عام قیدیوں کو رکھتے ہیں۔خدانخواستہ تشدد کی تو ہم ویسے ہی اجازت نہیں دیتے کسی بھی قیدی کے ساتھ ہو۔انہوں نے مزید کہا خاص طور پر شہباز گل صاحب کے ساتھ کیسے ممکن تھا کہ جیل میں تشدد ہو جاتا۔

()

اس کے بعد چیزیں کافی تیزی کے ساتھ تبدیل ہوئیں۔ابھی تشدد والا معاملہ عدالت میں ہے، دیکھتے ہیں بات کس طرف جاتی ہے۔ہاشم ڈوگر نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت عمران خان کے لانگ مارچ کا حصہ نہیں بنے گی۔ اگر عمران خان لانگ مارچ کا اعلان کرتے ہیں تو پنجاب حکومت اس کا حصہ نہیں بنے گی۔لانگ مارچ کے شرکاء کو پنجاب حکومت کی جانب سے سہولیات فراہم کرنے کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دیکھیں سہولیات نہیں دی جائیں گی۔
ہم سرکاری وسائل استعمال نہیں کریں گے۔کیونکہ یہ ایک سیاسی معاملہ ہے، حکومت کو اس کا حصہ نہیں بننا چاہیئے۔وزیر داخلہ ہاشم ڈوگر کا کہنا ہے کہ اگر بطور ہوم منسٹر آپ مجھ سے پوچھتے ہیں تو ہمارا کام یہ ہوگا کہ جتنے لوگ بھی لانگ مارچ کے لیے نکلیں گے ہم انہیں سیکیورٹی مہیا کریں گے۔
ایک جم غفیر ہو گا تو اس میں لوگوں کو سیکیورٹی دینا بہت ضروری ہے۔
تمام سڑکیں جام ہو جائیں گی تو ہم نے زندگی کے دیگر معاملات بھی چلانے ہیں۔اشیاء کی آمدورفت کو دیکھنا ہے۔ہم تو ان سارے معاملات میں مصروف ہوں گے۔ایک سیاسی کارکن کے طور پر ہم پنجاب حکومت سے کسی قسم کی مدد نہیں لیں گے۔نہ ہم پولیس سے کہیں گے کہ وہ جا کر کنٹینر اٹھائیں۔نہ ہم پولیس کو کہیں گے کہ وہ آگے جاکر اسلام آباد پولیس سے لڑے۔ہمارا ایسا کوئی ارادہ نہیں اور ہم ایسا کوئی کام نہیں کریں گے۔



Source link

Credits Urdu Points