نوازشریف کی تاحیات نااہلی ختم ہو گی، عمران خان نااہل نہیں ہوں گے

12


اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 اکتوبر2022ء) سینئر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نوازشریف کی تاحیات نااہلی ختم ہو گی، عمران خان نااہل نہیں ہوں گے۔سینئر تجزیہ کار ریما عمر نے جیو نیوز کے پروگرام میں کہا کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے 62 ون ایف سے متعلق حالیہ ریمارکس بہت اہم ہیں۔ججوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ قانون کی جو تشریح کریں گے اس پر قائم رہیں گے۔بدقسمتی سے موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ایک کیس میں کہا کہ ماضی میں غلطی سے کوئی تشریخ ہو جاتی ہے تو اسے درست کر لینا چاہئیے۔62 ون ایف میں کہیں نہیں لکھا کہ نااہلی تاحیات ہو گی،2018 میں سپریم کورٹ کے پاس یہ کیس گیا تو جسٹس عمر عطا بندیال نے تاحیات نااہلی کا فیصلہ دیا۔یہ فیصلہ پاکستان کی عدالتی تاریخ کا کمزور ترین فیصلہ ہے۔

()

فیصل واوڈا کا کیس مختلف چیز کے بارے میں ہے۔

اس میں ٹیکنیکل بنیادوں پر فیصلہ ہوگا۔جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور ماہر قانون حامد خان نے کہا ہے کہ آرٹیکل 62 ون ایف میں تو کہیں نہیں لکھا کہ اس کے تحت کوئی شخص تاحیات نااہل ہوسکتا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق انہوں نے کہا کہ شق میں صرف یہ لکھا ہے کہ کسی امیدوار میں جو خوبیاں ہونی چاہییں ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ صادق اور امین ہو، لیکن یہ نہیں لکھا کہ اس میں یہ اہلیت نہ ہو تو وہ ساری عمر کے لیے نااہل ہوجائے گا۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری سمیت دیگر رہنما بھی 62 ون ایف کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں۔گزشتہ روز چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پی ٹی آئی رہنما فیصل واوڈاکی تاحیات نااہلی کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بھی تاحیات نااہلی کے آرٹیکل 62 ون ایف کو کالا قانون قرار دیا ہے۔



Source link

Credits Urdu Points