شہباز گل کے دو بارہ جسمانی ریمانڈ کے فیصلے کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا

10


اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اگست2022ء) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کے وکلاء نے ان کے دو روزہ جسمانی ریمانڈ کے فیصلے کو چیلنج کر دیا۔شہباز گل کے وکلا نے سیشن عدالت کے جسمانی ریمانڈ کے فیصلے کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا۔درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ شہباز کے دوبارہ ریمانڈ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ درخواست میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے آج ہی سماعت کی استدعا کی گئی۔ اسلام آباد کی سیشن عدالت نے شہباز گل کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔ ا یڈیشنل سسیشن جج زیبا چوہدری نے پولیس کی فوجداری نگرانی اپیل بھی منظور کرلی ۔ عدالت نے حکم دیا کہ شہباز گل کو 48 گھنٹوں کیلئے پولیس کے حوالے کیا جاتا ہے۔
قبل ازیں اسلام آباد کی سیشن عدالت میں بغاوت پر اکسانے کے مقدمے میں گرفتار شہباز گل کے مزید جسمانی ریمانڈ سے متعلق کیس پر سماعت ہوئی، ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری نے شہباز گل کے مزید جسمانی ریمانڈ کے کیس پر سماعت کی۔

()

دوران سماعت شہبازگل کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل کئے کہ شہباز گل کے خلاف درج مقدمہ بدنیتی پر مبنی ہے،ہمیں کیس کا ریکارڈ بھی فراہم نہیں کیا گیا،ریمانڈ میں کچھ چیزیں خفیہ رکھی گئی ہیں،پراسیکیوشن کے مطابق شہباز گل نے اپنی تقریر تسلیم کر لی۔
وکیل نے بتایا کہ پراسیکیوشن زیادہ زور دے رہی ہے کہ شہباز گل نے کسی کے کہنے پر تقریر کی،اینکرز سیاسی رہنماؤں کو ٹی وی پر بلاتے ہیں اور وہ روزانہ بولتے ہیں،کچھ چیزیں غلط تو ہو سکتی ہیں لیکن وہ بغاوت،سازش یا جرم میں نہیں آتیں،شہباز گل کے انٹرویو کا کچھ حصہ نکال کر اس پر مقدمہ درج کر لیا گیا۔ رہنما تحریک انصاف کے وکیل نے مزید دلائل کئے کہ شہباز گِل نے اپنی تقریر میں مسلم لیگ ن کے 8 رہنماؤں کے نام لیے،شہباز گل نے سوال کا لمبا جواب دیدیا،اس میں کچھ باتیں غلط کہہ دی گئیں۔
وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ شہباز گل نے بتایا ساری رات مجھ پر تشدد کرتے ہیں،شہباز گل نے کہا ہے کہ جسم کے نازک حصوں پر تشد د کیا جاتا ہے۔ عدالت نے شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق کیس میں فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا،شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق فیصلہ 3 بجے سنایا جائے گا۔



Source link

Credits Urdu Points