حامد میر کا پی ٹی آئی سے منسلک لوگوں کی ویڈیو ٹیپس کی موجودگی کا انکشاف

5


اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 05 جولائی 2022ء ) معروف صحافی ور تجزیہ کار حامد میر نے تحریک انصاف سے منسلک لوگوں کی ویڈیو ٹیپس کی موجودگی کا انکشاف کردیا۔ تفصیلات کے مطابق جیونیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جج ارشد ملک کی ایک ویڈیو ٹیپ آئی ان کے خلاف کارروائی ہوئی اور انہیں نوکری سے فارغ کیا گیا ، اس پر سپریم کورٹ نے بھی ایکشن لیا اوراس کیس میں عدالت کا فیصلہ بھی موجود ہے ، اس طرح کی کچھ ٹیپس آسکتی ہیں جن میں سے کچھ میں نے بھی دیکھی ہیں جو عمران خان کی نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے کچھ دیگر صاحبان کی تھیں اور جب میں نے وہ دیکھیں تو افسوس ہوا اور میرا خیال ہے کہ وہ ٹی وی اسکرین پر نہیں چل سکتیں اور ان کی بنیاد پر کارروائی کا آگے بڑھنا کافی مشکل ہوگا۔

()

دوسری طرف تحریک انصاف کے رہنما و سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا ہے کہ جب بھی حکومت دباؤ میں آتی ہے تو اس قسم کی آڈیوٹیپس آرہی ہوتی ہیں ، پچھلی مرتبہ پیٹرول کی قیمتیں بڑھیں توبزنس ٹائیگون کی آڈیوٹیپ آگئی ، سب کو معلوم ہے یہ تمام ٹیپس ایک ہی جگہ سے ٹیمپرڈ کرکے نکالی جاتی ہیں ، حالیہ آڈیو ٹیپ بھی ٹیمپرڈ ہے اور سب کو معلوم ہے کہاں سےآتی ہیں۔
قبل ازیں تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ عمران خا ن کے گھرکا فون ٹیپ کیاگیا،عمران خان کے خلاف کرپشن پر کچھ نہیں مل رہا توفیملی کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے،فون ٹیپنگ غیر قانونی ہے،عدالت نے اس کے خلاف فیصلہ دیاتھا،سپریم کورٹ نے فون کالز ریکارڈ کرنے سے منع کیاتھا،دلچسپ بات ہے کہ ائی ایس آئی نے کہا ہم نے 7 ہزار فونز ٹیپ کیے۔
شیرین مزاری کا کہنا تھا کہ عمران خان اور پرنسپل سیکریٹری کی فون کالز باہر آتی ہیں تو یہ غیر قانونی ہے،پورے پاکستان میں جلسے ہوئےیہ اس سے یہ گھبرا گئے ہیں ، سپریم کورٹ فیصلے کے باوجود فون ٹیپنگ ہورہی ہے،1997کی ججمنٹ پڑھیں،جب حکومت گرائی گئی،فون ٹیپنگ ہوئی ، فون ٹیپ کرنا آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی سنگین خلاف ورزی ہے۔



Source link

Credits Urdu Points