ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کو اختیارات کی منتقلی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج


لاہور ہائی کورٹ نے پارلیمان کے اختیارات میں مداخلت کی۔ مسلم لیگ ق کا موقف ، کیس کی جلد سماعت کی درخواست بھی دائر کر دی


ساجد علی

منگل 5 جولائی 2022
14:01

اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 05 جولائی 2022ء ) ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کو اختیارات کی منتقلی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ، کیس کی جلد سماعت کی درخواست بھی دائر کر دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو مسلم لیگ ق کی جانب سے عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا گیا ہے اور اس ضمن میں دائر کی گئی درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے پارلیمان کے اختیارات میں مداخلت کی جب کہ آئین کے تحت پارلیمنٹ کے کام میں مداخلت نہیں کی جا سکتی اور تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہنے کے پابند ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی نے اپنے اختیارات رولز کے تحت ڈپٹی اسپیکر کو منتقل کیے اور اسپیکر نے اپنے اختیارات واپس لیے تو اس کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا جس پرلاہور ہائیکورٹ نے ڈپٹی اسپیکر سے اختیارات کی واپسی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا تھا۔

()

خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ وزارتِ اعلیٰ کے انتخاب کے معاملے پر ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کے اختیارات کی بحالی کا حکم دیا تھا ، لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شجاعت علی خان اور جسٹس جواد حسن نے کیس کی سماعت کی ، عدالتِ عالیہ کے جاری کیے گئے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ اسپیکر ماورائے آئین اقدام کرے گا تو آئینی دائرہ اختیار میں عدالت اس پر نظرِ ثانی کر سکتی ہے، آئین اسپیکر کی کسی ایسی رولنگ کو تحفظ نہیں دیتا جو اختیارات کا ناجائز استعمال کر کے دی گئی ہو۔

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے بھی قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کے حالیہ اختیارات سے تجاوز کرنے کے اقدام کو کالعدم کیا ہے، پرویز الہٰی کے وزارتِ اعلیٰ کے امیدوار ہونے سے وہ اسپیکر کے اختیارات استعمال نہیں کر سکتے تھے۔

متعلقہ عنوان :



Source link

Credits Urdu Points

Exit mobile version