سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی منحرف ارکان کی اپیلوں پر سماعت

15


اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین، 5 جولائی 2022) سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پی ٹی آئی منحرف ارکان کی اپیلوں پر سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزاروں کے وکیل نے بتایا کہ وزیراعلیٰ کے امیدوار پرویز الہٰی نے انتخاب کے روز اجلاس سے بائیکاٹ کر دیا تھا۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ انحراف چھوٹی بات نہیں یہ انسان کے ضمیر کا معاملہ ہے۔ پی ٹی آئی کے ممبر ہوتے ہوئے آپ نے مسلم لیگ ن کو ووٹ دیئے۔ چیف جسٹس نے قرار دیاکہ سپریم کورٹ آرٹیکل 63 اے کی تشریح میں انحراف کو پہلے ہی کینسر قرار دے چکی ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کی جماعت نے اجلاس سے بائیکاٹ کیا تو آپ نے شرکت کیوں کی؟ جسٹس محمد علی مظہر نے قرار دیا کہ پی ٹی آئی کے ممبر ہوتے ہوئے آپ نے مسلم لیگ ن کو ووٹ دیئے۔

()

واضح رہے کہ عائشہ نواز اور عظمیٰ کاردار سمیت دیگر نے الیکشن کمیشن کا ڈی سیٹ کرنے کا فیصلہ چیلنج کر رکھا ہے، الیکشن کمیشن نے پارٹی کی جانب سے ریفرنس دائر کیے جانے کے بعد پی ٹی آئی کے 25 منحرف ارکان پنجاب اسمبلی کو ڈی سیٹ کیا تھا،بعد ازاں پاکستان تحریک انصاف کے ڈی سیٹ ارکان نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا تھا،ادھر تین روز قبل سپریم کورٹ نے وزیراعلی پنجاب کے رن آف الیکشن سے متعلق کیس کا تحریری حکمنامہ جاری کیا،تحریک انصاف کی لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کا تحریری حکمنامہ جاری کیا گیا۔ سپریم کورٹ کی طرف سے جاری کردہ تحریری حکمنامہ 10 صفحات پر مشتمل ہے۔ تحریری حکمنامے کے مطابق وزیراعلی پنجاب کے انتخاب کا سکینڈ پول 22 جولائی کو پنجاب اسمبلی میں ہوگا۔ تحریک انصاف کی درخواست نمٹائی جاتی ہے،جبکہ فریقین کی یقین دہانی کے بعد لاہور ہائیکورٹ کے حکم میں ترمیم کر ہے ہیں۔ تحریری حکمنامے میں کہا گیا کہ وزیراعلی پنجاب کے انتخاب کے سکینڈ پول کو ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی چیئر کریں گے۔



Source link

Credits Urdu Points