جسٹس (ر) ناصرہ جاوید کے گھر پر چھاپہ، خواجہ آصف نے معافی مانگ لی

6


اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 24 مئی2022ء) وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے جسٹس (ر) ناصرہ جاوید کے گھر پر چھاپے پر قومی اسمبلی میں معافی مانگ لی اور کہاہے کہ مذمت سلیکٹڈ نہیں ہونی چاہیے، پوچھتا ہوں نور عالم کے گھر پر چھاپے کی کس نے مذمت کی ،جب ہم پر بلڈوزر چلائے جارہے تھے، اس وقت کسی کا ضمیر نہیں جاگا،جب لاجز پر حملہ ہوا تھا، ایم این اے اٹھائے گئے، تب ضمیر نہیں جاگا،نواز شریف نااہل ہوا تو پچ پر نہیں لیٹا، وکٹیں نہیں اکھاڑیں، خونی مارچ نہیں کیا، فیصلہ حق میں تھا یا نہیں، اس نے قانون کے آگے سرنگوں کیا،قانونی آئینی حکومت کو ہٹانے کیلئے دھرنے یاحملے نہ کریں ،حملوں کی ترغیب نہ دیں۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کے دوران خواجہ محمد آصف نے کہا کہ مذمت سلیکٹڈ نہیں ہونی چاہیے، پوچھتا ہوں نور عالم کے گھر پر چھاپے کی کس نے مذمت کی انہوں نے کہا کہ میں جسٹس (ر) ناصرہ جاوید جو علامہ محمد اقبال کی بہو اور ہمارے معزز پارلیمنٹرین ولید اقبال کی والدہ ہیں، سے گھر پر چھاپہ مارے جانے پر معافی مانگتا ہوں۔

()

وزیر دفاع نے کہا کہ جب سیاسی ورکر دہشت گرد کی زبان بولتا ہے تو وہ اپنی سیاسی شناخت کی نفی کرتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اس سے پہلے بھی گرفتاریاں ہوتی رہی ہیں، چھاپے پڑتے رہے ہیں،جس انداز میں مسلح جتھے آرہے ہیں، اس انداز میں پولیس مسلح نہیں۔خواجہ محمد آصف نے کہا کہ جب ہم پر بلڈوزر چلائے جارہے تھے، اس وقت کسی کا ضمیر نہیں جاگا،جب لاجز پر حملہ ہوا تھا، ایم این اے اٹھائے گئے، تب ضمیر نہیں جاگا۔ انہوںنے کہاکہ ہم سے کتنی مرتبہ اقتدار چھنا، پی پی سے چھنا، ہر بار چلے گئے، ہم نے آئینی راستے سے وزیراعظم کو ہٹایا۔ن لیگی رہنما نے کہا کہ نواز شریف نااہل ہوا تو پچ پر نہیں لیٹا، وکٹیں نہیں اکھاڑیں، خونی مارچ نہیں کیا، فیصلہ حق میں تھا یا نہیں، اس نے قانون کے آگے سرنگوں کیا۔انہوں نے کہا کہ میرا قائد جیل چلا گیا ،یہ ہوتاہے قانون کے آگے سر تسلیم خم کرنا ،ملکی عدلیہ کا شکر گزار ہوں ہمیں ریلیف دیا۔خواجہ محمد آصف نے کہا کہ راولپنڈی کے ایک ایم این اے نے کہا جلادو، ماردو،سیاستدان ایسی بات نہیں کرتے کہ جلا دو گرادو۔انہوںنے کہاکہ اس عمر میں سیاستدان ایسی بات کریں تو یہ مار دھاڑ کی شکل ہے ،مذمت سلیکٹڈ نہ کریں ،اصول کی بات کریں تو ہر ایک پر لاگوہو۔ن لیگی رہنما نے کہا کہ پیپلز پارٹی سے 90کی دہائی میں بڑاتنائو رہا تاہم گولی جیسی زبان میں بات کی اور نہ ہی اسے اس انداز میں استعمال کیا۔انہوں نے کہا کہ قانونی آئینی حکومت کو ہٹانے کیلئے دھرنے یاحملے نہ کریں ،حملوں کی ترغیب نہ دیں ، یہ سیاسی قدروں کا زووال ہے کہ سیاسی طور پر جو بات سوٹ کرے وہ کہیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ فضل الرحمان کیساتھ ہزاروں لوگ آئے ایک گملا نہیں ٹوٹا،ہم بھی احتجاج کیلئے آئے آورکرکے چلے گئے ،اسلحہ نہیں تھا۔انہوںنے کہاکہ حکومت کا آرڈر ہے لائیو ایمونیشن لے کر نہیں جانا ،اسلام آباد کی حفاظت کیلئے لوگ اس طرح مسلح نہیں ہیں۔وزیر دفاع نے کہا کہ ہمارے سیاسی جدو جہد میں انوسٹمنٹ ہے ،جب بھی اقتدار چھنا ہم چلے جاتے ہیں ،ہم استعفے دے کر چلے گئے ، دوسرے دن پکڑے گئے۔انہوں نے کہا کہ میں ایک مہینے بعد رہا ہوا تھا ،اقتدار چھن جانے پر عمران خان حواس کھوبیٹھا ہے ،مخالفت برائے مخالفت نے سیاست کو گٹر میں پھینک دیا ہے۔خواجہ محمد آصف نے کہا کہ کشمیر کی وادی کو جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے ،یاسین ملک سے متعلق مذمت سے ہٹ کر کچھ کرنا ہوگا۔



Source link

Credits Urdu Points