عمران خان کے بچے ان کی سابقہ اہلیہ اپنی ماں کے ساتھ بچپن سے ہیں

7


لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی 2022ء) فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ عمران خان کے بچے ان کی سابقہ اہلیہ اپنی ماں کے ساتھ بچپن سے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری کی جانب سے مریم نواز کی عمران خان پر کی گئی تنقید کا جواب دیا گیا ہے۔

فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ عمران خان کے بچے ان کی سابقہ اہلیہ اپنی ماں کے ساتھ بچپن سے ہیں، وہ کسی سیاست اور پاکستان کے وسائل پر وہاں نہیں رہ رہے، سوال یہ ہے کہ آپ کا پورا ٹبر جو پاکستان کے پیسے لوٹ کر وہاں بیٹھا ہے وہ کب آئے گا؟۔ اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف
کی مرکزی رہنماء شیریں مزاری نے کہا کہ عمران خان کے بیٹے بچپن سے ہی
لندن میں اپنی ماں کے ساتھ ہیں، ان کی ماں کی عمران خان کے ساتھ طلاق ہوچکی
ہے، مجرم مریم نواز کہتی ہے کہ عمران خان کے بیٹے مارچ میں شرکت کریں، آپ
اپنے بھائیوں اور باپ کو بلائیں۔

()

انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ
تحریک انصاف کے جلسوں میں عام شہری نکلے ہیں، پی ٹی آئی ان لوگوں کو جلسوں
میں نہیں لے کر آئی، کل عوام سمندر ہوگا ان کے کنٹینر کام نہیں آئیں گے،
رانا ثناء اللہ خود ایسا ماحول بنا رہے کہ جہاں تشدد ہو، پکڑ دھکڑ ہو،
عمران خان نے آج بھی کہا ہم پرامن ہیں، ہمارے دماغ میں تشدد والی کوئی بات
نہیں ہے، لیکن اگر حکومت اس طرح حرکتیں کرے گی تو ہم ڈٹ کر مقابلہ کریں گے،
کل ہمارا آزادی مارچ ہوگا اور لوگ نکلیں گے، رانا ثناء اللہ اگر کنٹینر یا
گرفتاریوں سے روک سکتے ہیں ۔

شیریں مزاری نے کہا کہ مجرم مریم نواز کہتی
ہے کہ عمران خان کے بیٹے لانگ مارچ میں شرکت کریں، میں ان کو بتا دوں کہ
عمران خان کے بیٹے بچپن سے ہی لندن میں اپنی ماں کے ساتھ ہیں،وہ ابھی تھوڑی
لندن گئے ہیں، ان کی ماں کی عمران خان کے ساتھ طلاق ہوچکی ہے، آپ اپنے
بھائیوں کو بلائیں کیسز کا جواب دیں، قوم کا لوٹا پیسا واپس کریں، آپ اپنے
باپ کو بلائیں جو دو ہفتے کیلئے گیا تھا اور واپس نہیں آیا، مریم نواز کو
عمران فوبیا ہوگیا ہے، پالیسی کی بجائے ذاتی حملے کیے جاتے ہیں۔ہماری
کارکردگی دیکھیں ہم کورونا سے اچھی طرح نکلے،پھر کیوں سازش کی گئی؟ پھر کیا
امریکا کو بیسز چاہیے تھے؟ عمران خان سے پوچھا گیا تو انہوں نے بیسز دینے
سے انکار کیا۔ میں خط والی سازش کو اسی روز سے لے رہی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ
میں نے پوچھا کہ بیسز سے متعلق کس اتھارٹی کے ساتھ بات چیت جاری تھی؟



Source link

Credits Urdu Points