جو والدہ کہتی تھی اس خامی کا ساڑھے 3سالوں میں احساس ہوا،عمران خان

7


لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی 2022ء) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ جو والدہ کہتی تھی اس خامی کا ساڑھے 3 سالوں میں احساس ہوا،والدہ کہتی تھی،یہ ہر کسی پر اعتماد کرلیتا ہے رُل جائے گا ، اب پتا چلا یہ میری بہت بڑی خامی ہے، اقتدار میں توبالکل بھی اندھا اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے اے آروائی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کا مسئلہ زیادہ تر مجرم ہیں، یہ حکومت میں اپنے کیسز ختم کرنے آئے ہیں، ڈرے ہوئے ہیں کہ الیکشن کال ہوگئے تو کیسز رک جائیں گے، یہ آگ کے اوپر تیل چھڑک رہے ہیں اور اپنی قبر کھود رہے ہیں، مجھے شک تھا یہ اس طرح کریں گے ، مجھے شہید پولیس اہلکار کے گھر والوں سے ہمدردی ہے، وہ ڈیوٹی پر تھا شہید ہے، میں تین ہفتے سے کہہ رہا تھا 20 مئی کو لانگ مارچ کا اعلان کروں گا، میں نے کہا تھا اسمبلی کی تحلیل اور الیکشن کی تاریخ کے علاوہ بات نہیں ہوگی، ہمیں لال بتی کے پیچھے لگائے رکھا ، کہا گیا آج فیصلہ ہوجائے گا کل ہوجائے گا،پھر ہم نے 25 کو لانگ مارچ کا اعلان کیا۔

()

جب میں چھوٹا تھا میری والدہ میری بہنوں کو کہتی تھی کہ مجھے ڈر ہے یہ دنیا میں رُل جائے گا یہ ہر کسی پر اعتماد کرلیتا ہے، میں کرکٹ کھیلتا تھا، لوگ میرا اعتماد توڑتے تھے تو مجھے کیا فرق پڑتا تھا، لیکن جو والدہ کہتی تھی اس کی پچھلے ساڑھے 3سالوں میں سمجھ آئی ،مجھے اب پتا چلا کہ ہرکسی پر اعتماد کرنا میری بہت بڑی خامی ہے، اقتدار میں بالکل بھی اندھا اعتماد نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس کا پورے ملک کو نقصان ہوسکتا ہے۔اس سے قبل سابق وزیراعظم عمران خان نے پشاورمیں یوتھ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ کیلئے یوتھ کو پوری طرح اپنی ذمہ داری کا احساس ہے، راستے میں رکاوٹیں ہٹانے کی ذمہ داری یوتھ کی ہوگی ، ہمارے تمام احتجاج پرامن اور آئین قانون کے اندر ہوئے ہیں، پولیس اور رعوام کو کسی طرح کا نقصان نہیں پہنچایا، لیکن امپورٹڈ حکومت پاکستان کے بڑے بڑے مجرم جن کو ہمارے اوپر مسلط کیا گیا، کل رات سندھ، پنجاب میں پورا کریک ڈاؤن کیا گیا، گھر میں خواتین کو چادر دیواری کا تقدس پامال کیا، خواتین کو ہراساں کیا، جسٹس ناصرہ اقبال کے گھر میں گھس گئے ، وہاں پولیس نے جو حرکتیں کیں، ویڈیو چل رہی ہے، ایک آرمی کا ریٹائرڈ میجر اس کی بچی کی ویڈیو چل رہی ہے، اس طرح کریک ڈاؤن کیا۔ ساڑھے تین سال حکومت میں تھے تو ہر تیسرے دن ڈیزل فضل الرحمان دھرنا دینے نکل آتا تھا، بلاول کانپیں ٹانگنے والا لانگ مارچ، پھر مریم نے لانگ مارچ کیا ، ہم نے ان کو کھلی اجازت دی، کہ ان کا جمہوری حق ہے، جب ہم اسلام آباد میں احتجاج کررہے ہیں، منتخب حکومت کے خلاف امریکا اور لندن میں بیٹھ کر سازش ہوئی،یہاں میرجعفر اور میر صادق بیٹھے ہوئے تھے، مجرموں کو حکومت میں بٹھایا، عدلیہ کو کہتا ہوں آپ کا امتحان ہے، پولیس کا امتحان ہے، بیوروکریسی کا ہے، ہمارے نیوٹرل کا امتحان ہے کہ وہ چوروں کے ساتھ ہیں یا پاکستان کی حقیقی آزادی کے ساتھ کھڑے ہیں، کل میں لانگ مارچ کی قیادت کروں گا، پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جلوس اسلام آباد کیلئے نکلے گا، پھر کہتا ہوں کہ ساڑھے تین سال میں کسی قسم کی رکاوٹ، کوئی پکڑ دھکڑ نہیں کی، ہم نے ان کو پوری اجازت دی، سب کو امتحان ہے جو بھی عوام کے سمندر کو روکنے کی کوشش کرے گا وہ بہہ جائے گا، قوم بیدار ہے، قوم سمجھ گئی ہے قوم کو سازش کا پتا ہے، قوم آزاد ہے ، قوم چوروں کی غلامی اور امپورٹڈ حکومت کو کبھی قبول نہیں کرے گی،لانگ مارچ سیاست نہیں جہاد اور ملکی آزادی کی جنگ ہے۔انٹرنیٹ بند کریں، موبائل فونز کوریج بند کریں سب کی تیاری کریں گے، ہماری تحریک الیکشن کی تاریخ ملنے اور حکومت کے خاتمے تک چلے گی۔



Source link

Credits Urdu Points