خیبر پختونخوا میں سینیٹ الیکشن کے نتائج کے بعد پی ڈی ایم کے اختلاف شدت اختیار کرگئے

17


پشاور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔ 07 مارچ 2021ء) صوبہ خیبر پختونخوا کے سینیٹ الیکشن کے نتائج کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں سینیٹ انتخابات کے معاملے پر اختلافات شدت اختیار کرگئے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی اور جمعیت علماء اسلام ف کو خیبرپختونخوا میں سینیٹ الیکشن کے نتائج پر تحفظات ہیں ، دونوں جماعتیں صوبے سے ایک سینیٹ نشست ضائع ہونے پر برہم ہیں جہاں ن لیگی امیدوار کی وجہ سے پی ڈی ایم امیدواروں کا ووٹ بینک متاثر ہوا۔ بتایا گیا ہے کہ پیپلزپارٹی اور جمعیت علمائے اسلام ف نے خیبرپختونخوا سینیٹ الیکشن کے نتائج پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کو سینیٹ الیکشن پر اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا سے سینیٹ کی ایک سیٹ ضایع ہونے کی ذمے دار مسلم لیگ ن ہے۔

()

خیال رہے کہ سینیٹ الیکشن میں صوبہ خیبرپختونخواہ میں تحریک انصاف نے کلین سوئپ کیا ، سینیٹ کی کل 37 نشستوں کے الیکشن کے سلسلے میں صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی میں ہونے والی ووٹنگ کے نتائج میں خیبرپختوںخواہ اسمبلی کی تمام 12 نشستوں پر پاکستان تحریک انصاف نے واضح فتح حاصل کی ہے اور صوبے کی حکمراں جماعت تمام 10 ممکنہ نشستوں پر فتح حاصل کرنے میں کامیاب رہی، جب کہ جے یو آئی ف اور اے این پی کو 2 نشستیں ملیں۔

جب کہ مجوعی طور پر سینیٹ انتخابات، بدھ کے روز ہوئی ووٹنگ کے دوران ن لیگ ایک بھی نشست جیتنے میں ناکام رہی ، مسلم لیگ ن نے خیبرپختونخواہ ، بلوچستان اور سندھ میں کوئی امیدوار ہی کھڑا نہیں کیا، قومی اسمبلی میں خواتین کی نشست پر نامزد امیدوار کو شکست ہوئی۔ سینیٹ کی 37 نشستوں پر انتخاب کے لیے خفیہ رائے دہی کے ذریعے پولنگ ہوئی جس کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے 18 ، پاکستان پیپلز پارٹی نے 8 ، بلوچستان عوامی پارٹی نے 6 ، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے 2 ، جمعیت علمائے اسلام ف نے 3، عوامی نیشنل پارٹی نے 2، بلوچستان نیشنل پارٹی نے مینگل 2 اور آزاد امیدواروں نے ایک نشست پر کامیابی حاصل کی۔



Source link

Credits Urdu Points