’ایسے حالات نہیں کہ 100فیصد بچوں کو ایک ساتھ اسکول بلایا جاسکے‘

22


وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے بھی وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی مخالفت کردی

ساجد علی
اتوار فروری
23:42

’ایسے حالات نہیں کہ 100فیصد بچوں کو ایک ساتھ اسکول بلایا جاسکے‘  ’ایسے حالات نہیں کہ 100فیصد بچوں کو ایک ساتھ اسکول بلایا جاسکے‘ pic 04f74 1580132625

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 28 فروری2021ء) صوبائی وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ملک میں کورونا کیسز میں کمی ضروری ہوئی لیکن کورونا ابھی مکمل ختم نہیں ہوا ، اس لیے اسکولوں میں 50 فیصد بچوں کی حاضری پر ہی عمل کیا جائے گا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کے ایک ٹویٹ پر مسئلہ کھڑا ہوا ، تاہم 100 فیصد بچوں کے ساتھ سماجی فاصلے یقینی نہیں بنا سکتے اس لیے صوبہ سندھ میں کوووڈ کے خاتمہ تک ایس او پیز ‏کے تحت تعلیمی ادارے 50 فیصد ہی بچوں کو بلانے پر پابند ہوں گے۔ سعیدغنی نے کہا کہ وفاقی وزیر تعلیم کی جانب سے ایک جانب 100 ‏فیصد بچوں کی اجازت کا اعلان کیا جاتا ہے تو دوسری جانب ایس او پیز پر عمل درآمد کا بھی کہا ‏جارہا ہے اور جو حالات اس وقت ہمارے تعلیمی اداروں بالخصوص نجی تعلیمی اداروں میں ہے اس ‏میں یہ کسی صورت ممکن نہیں کہ 100فیصد بچوں کو ایک ساتھ بلایا جاسکے۔

()

اس سے پہلے محکمہ تعلیم پنجاب نے 7 شہروں میں 5 دن کلاسز بحال نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، لاہور سمیت 7 شہروں کے اسکولوں میں 50 فیصد طلباء ہی سکول آئیں گے، 31 مارچ تک 50 فیصد طلباء کی حاضری پالیسی برقرار رہے گی، کورونا کے باعث 100 فیصد طلباء کی حاضری کی اجازت نہیں۔

تفصیلات کے مطابق محکمہ اسکول اینڈ ایجوکیشن پنجاب نے نوٹی فکیشن جاری کیا ہے جس کے تحت لاہور سمیت پنجاب کے 7 شہروں کے اسکولوں میں 50 فیصد طلباء کی حاضری پالیسی برقرار رہے گی۔
بتایا گیا ہے کہ 31 مارچ تک 50 فیصد طلباء کی حاضری پالیسی برقرار رہے گی ، گجرات، لاہور، ملتان، رحیم یار کے اسکولز میں 50 فیصد طلبا ہی آئیں گے۔ سیالکوٹ، راولپنڈی اور فیصل آباد میں بھی متبادل دن کلاسز برقرار رہیں گی ،
کورونا کے باعث 100 فیصد طلباء کی حاضری کی اجازت نہیں۔

متعلقہ عنوان :



Source link

Credits Urdu Points