برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں دعویٰ

16


 لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔ 26 فروری 2021ء ) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سارک سربراہ اجلاس میں شرکت کیلئے پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق برطانوی خبر رساں ادارے انڈیپینڈنٹ اردو کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ میں ایک بھارتی اخبار کی خبر کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیاہے کہ بھارت 2016 سے تعطل کے شکار سارک سربراہی اجلاس کے اسلام آباد میں انعقاد پر اعتراض واپس لے سکتا ہے جس کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بھی اس اجلاس میں شرکت کے لیے سرحد پار کا سفر کر سکتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ سارک سربراہ اجلاس 2016 کے بعد سے پاک بھارت کشیدگی کی وجہ سے مسلسل ملتوی ہوتی آ رہی ہے۔ تاہم اب گزشتہ روز پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کے درمیان ہونے والے رابطے اور ایل او سی پر سیز فائر کرنے پر کیے جانے والے اتفاق کے بعد پاک بھارت تعلقات میں بہتری کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

()

اس حوالے سے انڈیپینڈنٹ اردو کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلشنز کے سربراہ امجد یوسف نے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی حالیہ پیش رفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں امید رکھتا ہوں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کا عمل دوبارہ شروع ہو جائے گا۔

اس تمام معاملے کے حوالے سے امور خارجہ کے ماہر مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر مشاہد حسین سید کہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان مہذب انداز میں گفت و شنید کی شروعات ایک اچھا اقدام قرار دیا جانا چاہیے۔ اگلا قدم اسلام آباد اور نئی دلی میں دونوں ملکوں کے ہائی کمشنرز کی بحالی کا ہو گا۔ جبکہ سارک کانفرنس کا اسلام آباد میں اجلاس اگر ورچول بھی ہو، تو بھی پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی بہتری کے سلسلے میں ایک بڑی چھلانگ ثابت ہو گا۔ پاک بھارت تعلقات میں بہتری کی کوششوں کے حوالے سے خارجہ امور کے ماہرین کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کا بہتری کی طرف سفر امریکہ میں صدارتی انتخابات کے نتیجے میں ہونے والی تبدیلی کا مرہون منت ہے۔ جو بائیڈن حکومت نے نئی دلی پر اس سلسلے میں کافی دباؤ ڈالا ہے، جس سے وہ امن کے راستے پر چلنے کے لیے مجبور ہوئے ہیں۔ جبکہ بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے حوالے سے پاکستان نے واضح موقف اختیار کر رکھا ہے۔ پاکستان واضح کر چکا کہ نئی دلی سے دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کے لیے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی آئینی حیثیت دوبارہ بحال کرنا ہوگی۔



Source link

Credits Urdu Points