جیل میں جتنے مرضی لوگ بھیجیں، فون کروائیں، این آراو نہیں ملےگا، مریم نواز

18


ملتان (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 26 دسمبر2020ء) پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ جیل میں جتنے مرضی لوگ بھیجیں، فون کروائیں، این آراو نہیں ملےگا، آپ کو گھر جانا پڑےگا، استعفے دیے تو کیا ضمنی انتخابات اپوزیشن کے بغیر کرائیں گے؟ جس الیکشن میں صرف ایک جماعت شرکت کرے، 80 فیصد عوام کی نمائندگی نہ ہو،اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ انہوں نے ملتان میں میڈیا سے گفتگو جتنے مرضی اپنے لوگ بھیجیں، ملاقاتیں کروا لیں، جیل میں بھیجیں، فون کروا لیں۔ آپ کو این آراو نہیں ملےگا، آپ کو گھر جانا پڑےگا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے استعفے دیے تو ضمنی انتخابات اپوزیشن کے بغیر کرائیں گے؟ جس الیکشن میں صرف ایک جماعت اکیلی شرکت کرے گی اس کی کوئی حیثیت نہیں۔

()

کیونکہ جس انتخابات میں80 فیصد عوام شرکت نہیں کرتے۔

ان کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ وہ تو دھاندلی کرکے بھی آسکتے ہیں جیسے2018 میں آئے۔ انہوں نے کہا کہ جب پی ڈی ایم کا اجلاس ہوتا ہے سب اس مئوقف کو سامنے رکھتے ہیں۔ اجلاس میں ہرکسی کا جماعت اپنا مئوقف ہوتا ہے۔ ان پربحث ہوتی ہے پھر فیصلے ہوتے ہیں۔ اس سے قبل لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ آج بی بی شہید کی برسی کے موقع پر ان کے پاس جا رہی ہوں، ان کی جمہوریت کے لیے جدوجہد تھی اور انہوں نے اس ملک کے لیے بہادری سے جان دی، تو یہ میرے لیے فخر کا مقام ہے کہ مجھے ان کی برسی میں شامل ہونے کا موقع مل رہا ہے. انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ میاں صاحب اور بی بی شہید نے اس ملک کو جو میثاق جمہوریت دیا تھا اس کے بعد پاکستان کی تاریخ تبدیل ہو گئی، یہ پاکستان کی تاریخ میں ایک انتہائی اہم سنگ میل تھا، میں، بلاول اور تمام سیاسی جماعتیں اس کو لے کر آگے بڑھیں گے اور مضبوط بنائیں گے. انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان میں بہت ضروری ہے کیونکہ پاکستان میں تقسیم بہت زیادہ بڑھ گئی ہے اور پاکستان کو اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے، ہم سب جماعتیں مختلف ہیں اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں شریک تمام جماعتوں کے الگ الگ منشور اور نظریات ہیں لیکن کچھ چیزیں پاکستان کی خاطر ایسی ہیں جس پر ہم سب اکٹھے ہیں. پیر پگاڑا کی جیل میں شہباز شریف سے ملاقات کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صرف یہ دورہ نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی ہمیں حکومتی وزرا کی جانب سے بھی کئی پیغامات موصول ہوتے رہے ہیں، جب ان کو جواب نہیں دیا گیا تو اور لوگوں کو بھیجا جا رہا ہے مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر نے کہا کہ میں یہ سمجھتی ہوں کہ میاں صاحب نے بہت اٹل فیصلہ کر یا ہے اور مولانا فضل الرحمان سمیت پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتیں بھی اس معاملے پر بالکل کلیئر ہیں کہ اس جعلی حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، مذاکرات کی کوشش کر کے یہ پی ڈی ایم سے این آر او مانگ رہے ہیں جو ان کو نہیں ملے گا. انہوں نے کہا کہ جب آپ جیل میں ہوتے ہیں تو آپ کو نہیں پتہ ہوتا کہ کون ملاقات کے لیے آنے والا ہے اور اچانک آپ کو بتایا جاتا ہے، آپ اس وقت انکار کرنے کی پوزیشن میں اس لیے نہیں ہوتے کہ جو آ رہا ہے کیا کہنے آ رہا ہے تو یہ بات آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے جہاں خاندان کو ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی وہاں اس طرح کی شخصیات بغیر کسی رکاوٹ کے مل بھی لیتے ہیں اور ان کے لیے راستے بھی کھل جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت ہی دھاندلی کی پیداوار ہے، اس کی کارکردگی اتنی بری ہے کہ اگلا الیکشن ووٹ سے تو نہیں لے سکتے، 2018 کا نہیں لے سکے تو اتنی بری کارکردگی کے بعد 2023 کا کیسے لیں گے، یہ چاہے جتنی بھی کوششیں کر لیں، ناکام ہوں گے اور اس حکومت کو گھر جانا پڑے گا مریم نواز نے کہا کہ مجھے تو اس حکومت پر رحم آتا ہے جو پی ڈی ایم پر نظریں گاڑ کر بیٹھے ہیں، یہ شکست خوردہ آدمی کی ذہنیت کی نشانہ ہے کہ کوئی پی ڈی ایم لیڈر جلسے میں نہیں پہنچا تو امید لگا کر بیٹھ گئے کہ شاید دراڑ پڑ گئی ہو، جس کو پتہ ہے کہ میں جا رہا ہوں. انہوں نے کہا کہ یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ شہباز شریف اپے بھائی اور پارٹی کے ساتھ بہت وفادار ہیں اور اگر وہ وفادار نہ ہوتے، اگر دھوکا دے سکتے تو اس نالائق کو وزیر اعظم بنانے کی ضرورت نہ پڑتی، وہ وزیر اعظم ہوتے انہوں نے کہا کہ شہباز شریف وہ اپنے بھائی اور پارٹی کے وفادار ہیں، انہوں نے ساری ایسی پیشکشوں کو ٹھکرایا جس کا ثبوت یہ ہے کہ آج وہ اپنے بیٹے سمیت جیل بھگت رہے ہیں۔



Source link

Credits Urdu Points