بھارت میں کسانوں کا احتجاج چوتھے ماہ میں داخل، فصلیں تلف کرنا شروع کر دیں

18


راکیش ٹیکیٹ کی اپیل پر کاشکاروں نے احتجاجا گندم کی فصل تلف کرنی شروع کر دی، مختلف علاقوں میں جلسے بھی جاری

بدھ فروری
18:12

نئی دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 24 فروری2021ء) بھارت میں کسانوں کا احتجاج چوتھے ماہ میں داخل ہو گیا۔ ہزاروں مظاہرین دلی کے باہر موجود ہیں، مودی سرکار کی ہٹ دھرمی بھی برقرار ہے، کاشکاروں نے احتجاجا گندم کی فصل تلف کرنی شروع کردی۔ خالصتان تنظیموں نے سکھوں کو پیغام دیا ہے کہ سکھ خود کو بھارتی نہ کہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق بھارت میں کسانوں کا احتجاج چوتھے ماہ میں داخل، ادھر ہزاروں کسان مظاہرین دلی کیاردگرد ٹکری، سنگھو اور غازی پور بارڈر پر موجود ہیں،دوسری طرف مودی سرکار کی ہٹ دھرمی بھی برقرار ہے۔راکیش ٹیکیٹ کی اپیل پر کاشکاروں نے احتجاجا گندم کی فصل تلف کرنی شروع کر دی، مختلف علاقوں میں جلسے بھی جاری ہیں۔ ہریانہ میں ہونے والے کسانوں کے جلسے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

()

کسان رہنمائوں کا کہنا تھا مودی کو ہر صورت متنازع قوانین واپس لینا ہی پڑیں گے۔ احتجاج میں خواتین کی بھی بڑی تعداد نے شرکت کی، مظاہروں میں شرکت کرنے سے ہمارے نوجوانوں کی اچھی تربیت ہو گئی ہے۔

خالصتان تنظیموں نے سکھوں کو پیغام دیا کہ سکھ خود کو بھارتی نہ کہیں۔ ادھر دہلی کی سیشن کورٹ نے کسانوں کے لیے ٹول کٹ بنانے والی ماحولیات کارکن دیشا روی کی ضمانت منظور کر لی۔عدالت کا کہنا تھا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں۔ اس لیے 22 سالہ لڑلی کو حراست میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔ مودی سرکار نے دیشا روی پر خالصتان تحریک کی مدد کا الزام لگایا تھا۔

متعلقہ عنوان :



Source link

Credits Urdu Points