کم ووٹوں کے باوجود سینیٹر کیسے منتخب ہو گئے، حکومت کا سینیٹرز سے وضاحت طلب کرنے کا فیصلہ

16


 اسلام آباد (اُردو پوائنٹ، تازہ اخبار، 24 فروری 2021) قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں کم ووٹوں کے باوجود منتخب ہونے والے سینیٹرز سے وضاحت طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں منعقد ہونے والے اجلاس میں سینیٹ ٹکٹ کی خریدو فروخت کے معاملے پر اہم فیصلے کیے گئے، جن میں سے ایک اہم فیصلہ یہ کیا گیا ہے کہ کم ووٹوں کے باوجود منتخب ہونے والے سینیٹرز سے وضاحت طلب کی جائے گی۔بتایا گیا ہے کہ اجلاس وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں منعقد ہوا، جس میں شیریں مزاری، فواد چوہدری اور شہزاد اکبر نے بھی شرکت کی۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ویڈیو سکینڈل میں نظر آنے والے ممبران اسمبلی کو نوٹس بھی بھیجے گئے کہ وہ 7 دن میں پیش ہو کر اپنا موقف پیش کریں۔

()

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ایک اہم فیصلہ یہ بھی کیا گیا کہ کم ووٹوں کے باوجود منتخب ہونے والے سینیٹرکو بلایا جائے گا۔

قائمہ کمیٹی نے خصوصی طور پر پیپلز پارٹی کے روبینہ خالد اور بہرہ مند تنگی، مسلم لیگ ن کے دلاور خان، اور جماعت اسلامی کے مشتاق احمد خان کو وضاحت دینے کا کہا ہے کہ پارٹی ووٹ نہ ہونے کے باوجود آپ لوگ سینیٹر کیسے منتخب ہوئے؟کمیٹی نے سینیٹرز سے وضاحت طلب کی ہے کہ وہ ووٹوں کی خرید و فروخت میں ملوث تو نہیں، یا ان کو کسی نے مالی معاونت تو نہیں دی؟
خیال رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے سینیٹ الیکشن 2018 میں ایم پی ایز کی ویڈیو کے معاملے کی تحقیقات کے لیے 3 رکنی کمیٹی بنائی تھی۔ اس کمیٹی کو یہ تحقیق کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے کہ ویڈیو میں کون کون ملوث ہے۔ کمیٹی فی الحال مذکورہ ویڈیو پر تحقیق کر رہی ہے۔ تحقیق مکمل ہونے کے بعد ویڈیو میں نظر آنے والے افراد کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ سمیت کیسز نیب، ایف آئی اے،اینٹی کرپشن بھجوانے پر تجاویز دے گی۔



Source link

Credits Urdu Points