مجھ سے شادی کرنا کسی بھی خاتون کیلئے بڑی قربانی ہوگی، بلاول بھٹو

35


لاہور(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 29 نومبر2020ء) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ مجھ سے شادی کرنا کسی بھی خاتون کیلئے بڑی قربانی ہوگی، جب میری شادی ہوگی تو لڑکی کا بھی سب کو پتا چل جائے گا، ہم پاکستان میں رہتے ہیں، ہماری اپنی ثقافت ہے ،تاریخ اور کلچر ہے، ہمارے خاندان کا حصہ بننا کسی بھی خاتون کیلئے بہت بڑی قربانی ہوگی۔ انہوں نے نجی ٹی وی کو اپنے انٹرویو میں کہا کہ محترمہ مجھے اچھا انسان بنانے کا سکھاتی تھی، بی بی محترمہ کے بارے تاثر ہے کہ وہ سیاست میں اور وزیراعظم تھیں شاید وہ اپنے بچوں کو وقت نہیں دے سکتی تھیں، لیکن ایک بھی والدین کی سکول میٹنگ نہیں ہوگی جو بی بی شہید نے مس کی ہوگی، چھٹی ہوتی تھی تو ہم نماز پڑھتے تھے، قرآن پاک پڑھتے تھے اور ساتھ میں کھانا کھاتے تھے۔

()

انہوں نے کہا کہ سیاست سے متعلق سوال بی بی شہید سے بھی پوچھا جاتا تھا کہ آپ نے سیاست کو چن لیا؟وہ کہتی تھیں کہ میں نے اس کو نہیں چنا بلکہ سیاست نے مجھے چنا ہے۔ شہید بی بی جب پاکستان آئیں تو اس کا کوئی سیاست میں آنے کا ارادہ نہیں تھا،لیکن جب شہید ذوالفقار بھٹو کی حکومت کے خلاف مارشل لاء لگا، اور پھر جب ان کو شہید کیا گیا، پھر بعد میں شہید محترمہ بھٹو جمہوریت کی علامت بنیں، پھر وہ اپنی شہادت تک والدکے مشن کو لے کر چلتی رہیں۔ سیاست فرض ہے، اس میں ہماری تین نسلوں کی جدوجہد ہے، لیکن ساتھ ساتھ اب جو میں گلگت بلتستان میں کررہا ہے، دور دراز علاقوں میں شہید بھٹو اور شہید بی بی کا پیغام پہنچاتا ہوں اور سیاست کو انجوائے بھی کرتا ہوں۔پاکستان پیپلزپارٹی ایک خاندان ہے کہتے ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ ہمارے ورکرز اور عہدیدران کا بھی تین نسلوں کی قربانیاں ہیں۔آج جب میں گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلا رہا تھا، تو میرے کارکنان مجھ سے ملنا چاہتے تھے، ایک بزرگ خاتون تھی جس کا بیٹا شہید ہوا تھا، کہ میرے لڑے کی شادی کا دن قریب تھا اور وہ شہید بے نظیر بھٹو کا استقبال کرنے گیا اور شہید ہوگیا۔ بلاول بھٹو نے اپنی شادی سے متعلق کہا کہ میری بہنوں اور میرے لیے جب سے بی بی شہید کی شہادت ہوئی ہے ہم نے کبھی اس کا سوچا نہیں ہے، کیونکہ والدہ کا کردار بہت اہم ہوتا ہے، لیکن اب ہم سب آہستہ آہستہ تیار ہورہے ہیں۔جب میری شادی ہوگی تو لڑکی کا بھی سب کو پتا چل جائے گا۔مشرق اور مغرب کا موضوع ہمارے گھر میں چلتا ہے ، لیکن ہم پاکستان میں رہتے ہیں، ہماری اپنی ثقافت ہے ،تاریخ اور کلچر ہے، ہمارے خاندان کا حصہ بننا کسی بھی خاتون کیلئے بہت بڑی قربانی ہوگی۔مغرب کی خوبیاں زیادہ ہوں گی لیکن پاکستانی کے بارے میں سوچا ہے۔



Source link

Credits Urdu Points