مودی حکومت نے اداروں کو بھی سیاسی بنا دیا، دی اکانومسٹ

34


اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 29 نومبر2020ء) مودی حکومت کی دوغلی پالیسیوں اور انتہا پسند جماعت کو اداروں پر مسلط کرنے کے ایجنڈے نے بھارت کو دنیا بھر میں رسوا کردیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی میگزین ’دی اکانومسٹ‘ نے بھارت کا مصنوعی چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے لکھا کہ بھارت میں جمہوریت دم توڑ چکی ہے۔امریکی جریدے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ہندوستان میں جمہوریت دم توڑ رہی ہے اور نریندر مودی بھارت کو یک جماعتی ریاست بنانے میں مصروف ہے۔دی اکانومسٹ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ حال ہی میں بھارتی حکومت کے وزرا نے ایک متنازع بھارتی صحافی ارنب گوسوامی کی ضمانت منظور کروائی ہے۔
دی اکانومسٹ نے لکھا کہ ارنب گوسوامی کیس آزادی رائے کی نمائندگی نہیں کرتا تھا۔

()

بھارت میں 60 ہزار سے زائد مقدمات زیرِ التوا ہیں لیکن حکومتی جماعت کے طابع عدالتیں صرف حکومتی من پسند لوگوں کی پُشت پناہی کرنے میں مصروف ہیں۔

رپورٹ کے مطابق نریندر مودی نے الیکشن سے پہلے بھی فوج کا سہارا لیا اور لداخ میں چین کے ساتھ تنازع کا بھرپور پراپیگنڈا کیا۔
مودی نے بھارتی الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری کو متنازعہ بنایا اور الیکشن کمیشن کے فرض شناس افسران اور اُن کے خاندان کو نشانہ بنایا۔
جریدے کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دور میں آزادی ِ اظہار پر بھی غاصبانہ قانون بنائے گئے۔ دی اکانومسٹ کی رپورٹ میں لکھا گیا کہ گزشتہ سال اگست میں مودی نے کشمیر پر ظالمانہ اور غاصبانہ براہ راست حکمرانی مسلط کی اور ہزاروں بے گناہ کشمیریوں کو حراست میں لیا۔ جن کی سماعت بھارتی عدالتیں بھول چکی ہیں۔بھارت نے اپنا متنازع قانون جس کے تحت سیاسی جماعتوں کو لامحدود عطیات ملنے کی اجازت ملے، پاس کرانے کے لیے 2017ء میں مودی نے راجیا سبہا کے اختیارات کم کروائے۔
علاوہ ازیں عالیٰ عدلیہ ابھی تک کشمیر کو نظر انداز کیے ہوئے ہے۔ متنازع CAA 2019 کے خلاف 140 سے زائد پٹیشنز کی سماعت مسلسل التوا کا شکار ہے۔ جبکہ عدالتیں صرف من پسند افراد کے کیس کی سماعت کررہی ہیں ۔ بھارت کے سیکولر اور ڈیموکریتک تشخص کو نریندر مودی اور اس کے وزراء مسلسل نقصان پہنچا رہے ہیں ۔



Source link

Credits Urdu Points