اسرائیلی فوج ایران پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہو چکی

41


تل ابیب (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 نومبر2020ء) اسرائیلی ڈیفنس فورس نے کمر کس لی ہے کہ ٹرمپ کے عہدہ چھوڑنے سے قبل ایران پر حملہ کرنے کی ممکنہ تیاری مکمل ہو چکی ہے۔اسرائیلی ایجنسیوں کے مطابق یہ بہت ہی نازک مرحلہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے متعلق اپنے خیالات کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہو پاتے ہیں یا نہیں۔اسرائیلی حکومت نے اپنی لڑاکا فورس کوکسی بھی وقت حملہ کرنے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیتے ہوئے ٹرمپ کی طرف سے اسلامی جمہوریہ ملک پر حملہ کرنے کا اشارہ ملتے ہی منصوبہ بندی کا کہہ دیا گیا ہے۔ایران کے ساتھ نیا محاذ کھڑا کرنے کا اصل مقصد جوہری ہتھیاروں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ مکمل نیوکلیئر انفراسٹرکچر کو تباہ کرنا ہے۔ایران پر حملہ کرنے سے متعلق محض منصوبہ بندی ہی نہیں کی جارہی بلکہ ایران کی طرف سے ردعمل سے نبٹنے کے لیے بھی سوچ بیچار کی جارہی ہے۔

()

کیونکہ ایران نہ صرف ڈائریکٹ بلکہ شام،لبنان اور غزہ پٹی میں پھیلے وسیع تر باغیوں کے ذریعے بھی اسرائیل پر چڑھ دوڑنے کی ہمت اور حوصلہ رکھتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 20جنوری کو جوبائیڈن کے حلف لینے سے قبل ٹرمپ اپنے دور صدارت کا آخری ایڈونچر ضرور کرنا چاہتا ہے۔ایران کے خلاف جنگ کی منصوبہ بندی اسرائیلی نیوز چینل 13کی خبر کے بعد سامنے آئی جس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ واشنگٹن اور تل ابیب مل کر تہران کے خلاف اکٹھے محاذ لانچ کرنے کا منصوبہ بنا چکے ہیں۔صدر ٹرمپ کی منصوبہ بندی کے مطابق وہ صرف اور صرف ایران کے ”ناتن“ شہر پر حملہ کرنا چاہتا ہے جہاں یورینیم کی سب سے زیادہ مقدار موجود ہے اور نیوکلیئر ہتھیاروں کی افزائش ۔تاہم امریکی اسٹیبلشمنٹ نے ٹرمپ کو ایسا کرنے سے روک رکھا ہے کیونکہ امریکہ کی کسی ایسی حرکت سے خطے میں نہ رکنے والی جنگ شروع ہو جائے گی۔تاہم اس قسم کی خبروں سے متعلق ردعمل دیتے ہوئے ایرانی حکومت کا کہنا تھا کہ ہم اسرائیل اور امریکہ کے کسی بھی قسم کے حملے کا پوری طاقت سے جواب دینے کا حوصلہ اور استطاعت رکھتے ہیں۔



Source link

Credits Urdu Points