قطر ایئرپورٹ پر نومولود پھینکنے والی عورت کی شناخت ہو گئی

50


دوحا ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 نومبر2020ء) یہ دو اکتوبر کی بات ہے جب قطر کے حماد ایئرپورٹ پر کوڑے دان سے پلاسٹک بیگ میں لپٹے ہوے ایک نومولود کی لاش ملی تھی۔اس پر ایئرپورٹ سکیورٹی ایکٹو ہوئی تھی اور سڈنی جانے والی فلائٹ کی ساری خواتین اتار کر انہیں ایمبولینس میں ڈال کر قریبی لیبارٹری لے جایا گیااور وہاں آسٹریلوی خواتین کے کپڑے اتار کر ان کا میڈیکل ٹیسٹ کیا گیا تھا۔یوں خواتین ہوائی مسافروں کا ایئرپورٹ پر میڈیکل ٹیسٹ ہونا ایک عالمی خبر بنی اور اس پر آسٹریلیا کی حکومت نے قطر حکومت کے خلاف احتجاج کیااور معافی مانگنے کا کہا تھا۔گزشتہ روز قطری حکام نے نہ صرف آسٹریلوی حکومت سے معافی منگی بلکہ ان سبھی خواتین سے بھی معذرت کی جن کا میڈیکل ٹیسٹ کیا گیا تھا۔

()

ساتھ ہی آفیشلز نے اعلان کیا کہ دوحا میں حماد ایئرپورٹ پر کوڑے دان سے ملنے والے بچے کے والدین کی شناخت ہو گئی ہے۔

بچے کی ماں کا تعلق ایشیائی ملک سے ہے اور وہ شادی شدہ ہے تاہم اس کے ایک اور شخص سے ناجائز تعلقات تھے۔ خاتون نے بچہ جننے کے بعد اس کی تصویر بچے کے ناجائز باپ کو بھیجی اور ابارشن کے ذریعے بچے کو قتل کر کے کوڑے دان میں پھینک دیا۔اس کے بعد خاتون قطر سے واپس اپنے ایشائی ملک چلی گئی۔آفیشلز کے بیان میں یہ بھی کہنا تھا کہ بچے کی شناخت اس کے ڈی این اے سے ہوئی ہے اور بچے کا والد ابھی قطر میں ہی مقیم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خاتون کے خلاف فوجداری ایکٹ کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے اور نومولود کی جان لینے کا جرم اگر ثابت ہو جاتا ہے تو اس خاتون کو 15سال جیل میں گزارنے کی سزا ہو سکتی ہے۔تاہم بچے کے والد کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا کہ کیا اس کے خلاف بھی کوئی قانونی کارروائی ہو گی یا نہیں۔بیان سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ بچے کاباپ ابھی تک قطر میں مقیم ہے اور یہاں سے کسی دوسرے ملک نہیں گیا۔تاہم یہ قانونی کارروائی ہونے کے بعد ہی پتا چلے گا کہ نومولود کی ماں کو گرفتار کر کے کب قطر لایا جاتا ہے جس کی وجہ سے درجن بھر خواتین کی بے حرمتی کی گئی تھی۔



Source link

Credits Urdu Points