پاکستان میں 26 نومبر سے تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان

51


اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 نومبر ۔2020ء) ملک میں 26 نومبر سے 10 جنوری تک تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے اور آئندہ ماہ ہونے والے تمام امتحانات بھی ملتوی کرنے کا اعلان کیا گیا ہے. اسلام آباد میں معاون خصوصی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 7 فیصد سے زائد دیکھی گئی انہوں نے کہاکہ تعلیمی اداروں میں کیسز کی شرح میں اضافے کو دیکھتے ہوئے حکومت نے ملک بھر کے تمام تعلیمی اداروں کو 26 نومبر سے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم اس دوران گھروں سے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا.

()

شفقت محمود نے بتایا کہ یہ فیصلہ بین الصوبائی وزرائے تعلیم سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے کہ 26 نومبر سے 24 دسمبر تک ملک بھر کے تمام سکولز، کالجز، یونیورسٹیز اور ٹیوشن سینٹرز بند رہیں گے. انہوں نے بتایا کہ 24 دسمبر سے 10 جنوری تک ملک بھر میں موسم سرما کی تعطیلات ہوں گی جس کے بعد11جنوری کو حالات بہتر ہونے کی صورت میں تعلیمی ادارے دوبارہ کھول دیے جائیں گے شفقت محمود نے کہا کہ 26 نومبر سے 24 دسمبر تک آن لائن تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھی جا سکتی ہیں اور جن اداروں میں یہ سہولت موجود نہیں وہاں ہوم ورک ہو گا. وفاقی وزیرتعلیم کے مطابق دسمبر میں ہونے والے تمام امتحانات بھی ملتوی کر دیے گئے ہیں جو آئندہ برس جنوری میں ہوں گے شفقت محمود نے بتایا کہ جنوری کے پہلے ہفتے میں کورونا وائرس کی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے گا جس کے بعد 11 جنوری کو تمام تعلیمی ادارے کھول دیے جائیں گے. انہوں نے اجلاس کے فیصلوں کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ 26 نومبر سے 24 دسمبر تک تمام تعلیمی ادارے بند ہوں گے‘اس ایک ماہ کے عرصے میں گھروں سے تعلیم کا سلسلہ جاری رہے گا‘اساتذہ کو سکولوں بلانے کی اجازت ہوگی‘آن لائن کی سہولت جہاں موجود نہیں وہاں اساتذہ ہوم ورک فراہم کریں گے‘25 دسمبر سے 10 جنوری تک موسم سرما کی تعطیلات ہوں گی‘جنوری کے پہلے ہفتے میں صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس ہوگا‘11 جنوری سے تعلیمی ادارے دوبارہ کھل جائیں گے جبکہ جامعات کے ہاسٹلز میں ایک تہائی طلبہ رہ سکیں گے. وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ جہاں تعلیمی سلسلہ آن لائن ہے وہاں آن لائن جبکہ جہاں یہ سہولت نہیں ہے وہاں اساتذہ ہوم ورک فراہم کریں گے اور اس سلسلے میں صوبائی حکومتیں فیصلہ کریں گی انہوں نے کہا کہ تمام حکومتوں کی جانب سے یہ کوشش کی جائے گی کہ گھروں میں تعلیم کا سلسلہ جاری رہے لیکن طلبہ کی اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیز کے اندر کوئی کلاسز نہیں ہوں گی. انہوں نے کہا کہ 26 نومبر سے 24 دسمبر تک گھروں سے پڑھائی کا سلسلہ جاری رہے گا جبکہ 25 دسمبر سے 10 جنوری تک موسم سرما کی تعطیلات ہوں گی اور اس دوران تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے. وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ 11 جنوری کو حالات کی بہتری پر تمام تعلیمی ادارے دوبارہ کھول دیے جائیں گے تاہم جنوری کے پہلے ہفتے میں ایک جائزہ اجلاس ہوگا امتحانات سے متعلق انہوں نے بتایا کہ دسمبر کے دوران ہونے والے امتحانات کو ملتوی کردیا گیا اور اب یہ 15 جنوری اور اس کے بعد ہوں گے، تاہم اس میں کچھ ایسے امتحانات ہیں جو جاری رہیں گے. معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ کچھ انٹرنس امتحانات جیسے ایم ڈی کیٹ وغیرہ جو انٹری کے لیے ہیں وہ معمول کے مطابق جاری رہیں گے کیونکہ ان کا ایس او پیز اور ماسک کے ساتھ انتظام کرنا ممکن ہے اور اسے احتیاط کے ساتھ منعقد کیا جاسکتا ہے ‘شفقت محمود کا کہنا تھا کہ اساتذہ یا کسی اور بھرتیوں کے سلسلے میں ہونے والے امتحانات جاری رہیں گے لیکن طلبہ کے دسمبر میں ہونے والے امتحانات کو جنوری کے وسط تک ملتوی کردیا گیا ہے. وفاقی وزیر تعلیم نے بتایا کہ ہائر ایجوکیشن یونیورسٹیز فوری طور پر آن لائن تعلیم شروع کردیں گی جبکہ جامعات کے ہاسٹلز میں طلبہ کا ایک تہائی حصہ رہے گا، جس میں وہ طلبہ ہوں گے جو بیرون ملک سے آئے ہوئے یا جہاں انٹرنیٹ کی سہولیات میسر نہیں ہیں. انہوں نے کہا کہ پی ایچ ڈی طلبہ یا جنہیں لیب کا کام کرنا ہے تو انہیں یونیورسٹی بلانے سے متعلق جامعہ خود فیصلہ کریں گی اس موقع پر انہوں نے واضح کیا کہ وہ ہنرمند ادارے جہاں ریگولر کلاسز کا طریقہ کار موجود نہیں ہے وہاں تعلیمی سلسلہ جاری رہے گا شفقت محمود نے کہا کہ جب تک گھروں سے پڑھائی کا سلسلہ جاری رہے گا تب تک سکول اساتذہ کو ضرورت کے مطابق بلانے کا فیصلہ کریں گے تاہم طلبہ کا وہاں داخلہ منع ہوگا. اجلاس میں کیے گئے مزید فیصلوں سے متعلق انہوں نے بتایا کہ ہماری سفارش ہے کہ مارچ اور اپریل میں ہونے والے بورڈ امتحانات کو مئی اور جون میں لے جایا جائے تاکہ طلبہ کو اپنا کورس ورک مکمل کرنے کا وقت مل جائے، اس کے علاوہ سرکاری سکولوں میں تعلیمی سال کا آغاز اپریل کے بجائے اگست میں کیا جائے، اس سلسلے میں گرمیوں یا مارچ کی چھٹیاں کم کردی جائیں انہوں نے بتایا کہ تمام معاملات کا جائزہ لیا جاتا رہے گا اور جنوری کے وسط میں تعلیم کا سلسلہ باقاعدہ طور پر دوبارہ شروع ہوجائے گا.



Source link

Credits Urdu Points