وہ 3 خفیہ رعایتیں جو آرمی چیف اور نواز شریف کے درمیان اختلافات کا سبب بنیں

13


لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔27 اکتوبر2020ء) سینئر صحافی ارشاد بھٹی نے ن لیگ کی اسٹیبلشمنٹ سے کی گئی 3 فرمائشیں بتا دیں۔تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سخت تقاریر نے سب کو حیران کر دیا ہے،چونکہ کچھ ماہ قبل ہی آرمی چیف کی مدت ملازمت کے لیے ن لیگ نے ووٹ دیا تھا لہذا اب نواز شریف کی جانب سے کی گئی سخت تقاریر پر بھی سوال اٹھایا جا رہا ہے۔آخر ایسا کیا ہوا کہ سابق وزیراعظم لندن بیٹھ کر اتنی سخت گفتگو کر رہے ہیں اور اداروں پر تنقید کر رہے ہیں،اسی متعلق تجزیہ پیش کرتے ہوئے سینئر صحافی ارشاد بھٹی کا کہنا ہے کہ ن لیگ کے بیک چیلنجز تو فوج کے ساتھ مستقل چل رہے تھے۔ان کا نعرہ آل بچاؤ، مال بچاؤ اور کھال بچاؤ ہے۔ارشاد بھٹی نے ن لیگ کی اسٹیبلشمنٹ سے کی گئی تین فرمائشوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ کی تین فرمائشیں تھیں۔

()

ایک مریم نواز کو باہر بھیجا جائے، شریف فیملی کے خلاف کیسز ہولڈ پر چلے جائیں اور نئے کیسز نہ کھلیں۔ارشاد بھٹی نے کہا کہ لیگی رہنما زبیر عمر کی ملاقاتیں آخری تنکا ثابت ہوئے جب یہ باتیں نہیں مانی گئیں تو میاں صاحب انقلابی ہو گئے۔انہوں نے مزید بتایا کہ آرمی چیف نے ہمیشہ نواز شریف سے کہا کہ میں آپ کے ساتھ ہوں مگر پانامہ کے معاملے پر عدالتوں کا سامنا کریں۔محمد زبیر کو بھی یہی کہا گیا کہ عدالتی معاملہ عدالتوں میں اور سیاسی مسائل پارلیمنٹ میں حل کریں۔ارشاد بھٹی سے سوال کیا گیا کہ محمد زبیر کہتے ہیں کہ ہم آرمی چیف سے غیر جانبدار ہونے کا تقاضا کر رہے تھے،ان سے مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ عمران خان کی حکومت کی سپورٹ سے ہاتھ کھینچ لیں۔جس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد بھٹی نے کہا کہ نواز شریف نے یہ بات اپنے دور حکومت میں راحیل شریف کو کہی تھی کہ وہ نیوٹرل ہو جائیں؟ فوج یہ تو نہیں کر سکتی کہ حکومت اسے کچھ کہے اور وہ انکار کر کے غیر جانبدار ہو جائے۔ارشاد بھٹی نے سیاسی معاملہ پر مزید کیا کہا ویڈیو میں ملاحظہ کیجئے :  



Source link

Credits Urdu Points