مجھ سے ایسا سیاسی سوال مت پوچھیں صرف کشمیر پر بات کروں گا

15


لاہور (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اکتوبر2020ء) مقبوضہ کشمیر کامعاملہ ستر سالوں سے لٹکا ہوا ہے۔اگرچہ وزیراعظم عمران خان کا اس پر موقف واضح ہے مگر ابھی تک کہیں سے روشنی کی امید نظر نہیں آتی۔گزشتہ روزوزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے اینکر کے ایک سوال پر انہیں جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی موجودہ حکومت سے محبت سے میں واقف ہوں آپ مجھ سے سیاسی سوالات مت پوچھیں۔انٹرویو کے دوران کشمیر کے موضوع پر حکومتی سنجیدگی سے متعلق سوال کرتے ہوئے اینکر نے معید یوسف سے سوال کیا کہ اگر یہ حکومت کشمیر کے معاملے پر سنجیدہ ہوتی تو وہ علی امین گنڈا پور کو وزیر برائے امور کشمیر اور شہریار آفرید ی کو کشمیر کمیٹی کا چیئر مین بناتی؟معید یوسف نے کہا یہ سوال مجھ سے ایک انٹرویو میں کرن تھاپر نے بھی پوچھا تھا ان کا یہ سوال پوچھنا تو بنتا تھا آپ کیوں پوچھ رہے ہیں، آپ کی اس حکومت سے محبت مجھے پتا ہے لیکن سیاسی سوالات سیاسی لوگوں سے پوچھیں۔

()

معید یوسف نے ان کے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں ایک بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں، ایسا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ اس حکومت نے کشمیر پر سودا کرلیا یا یہ حکومت اس معاملے پر سنجیدہ نہیں تھی، صبح سے شام تک میرے دفتر میں 100 کام ہوتے ہیں مگر کشمیر کا معاملہ سب سے اوپر ہے، اگر وزیراعظم کشمیر کے معاملے پر سنجیدہ نہ ہوتے تووہ میرے جیسے شخص کو اس جگہ پر کیوں بٹھاتے۔انہوں نے مزید کہا کہ تقرریوں کا اختیار وزیراعظم کے پاس ہے میں اپنی انفرادی حیثیت میں کوئی بات نہیں کرسکتا کیوں کہ یہ میرا اختیار نہیں ہے، باقی پاکستان میں جتنے لوگ بھی چاہے سویلین ہوں یا ملٹری کے کشمیر کیلئے کام کررہے ہیں وہ سب مجھ سے تعاون کرتے ہیں اور میں ان کے تعاون سے اپنے فرائض سرانجام دیتا ہوں، باقی سیاسی معاملات سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔جہاں تک کشمیر کا معاملہ ہے تو میں ببانگ دہل کہہ سکتا ہوں کہ اس پر وزیراعظم پاکستان اور ریاست کا ایک ہی موقف ہے کہ مقبوضہ کشمیر ہمارا ہے اور بھارت نے اس پر غاصبانہ قبضہ کیا ہوا ہے اور یہ ہم کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔



Source link

Credits Urdu Points